وفاقی شرعی عدالت نے خودکشی سے متعلق قانون پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے خودکشی کی کوشش کو دوبارہ قابلِ سزا جرم قرار دے دیا

وفاقی شرعی عدالت نے خودکشی سے متعلق قانون پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے خودکشی کی کوشش کو دوبارہ قابلِ سزا جرم قرار دے دیا۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے 2022 میں کی گئی قانون سازی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔

فیصلہ چیف جسٹس اقبال حمیدالرحمان، جسٹس محمد انور اقبال اور جسٹس امیر خان پر مشتمل بینچ نے سنایا۔

عدالت نے قرار دیا کہ 2022 کی قانون سازی کے تحت تعزیراتِ پاکستان سے حذف کی گئی شق بحال کی جاتی ہے، جس کے بعد خودکشی کی کوشش دوبارہ فوجداری جرم شمار ہوگی۔ وفاقی شرعی عدالت نے اس حوالے سے دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے حکومت کی ترمیم کو اسلامی تعلیمات سے متصادم قرار دیا۔

Related posts

انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی حملہ کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو 10،10 سال قید اور فی کس 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی

پنجاب حکومت کے گلف اسٹریم G500 طیارے کی خریداری پر قانونی نوٹس، قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان