کراچی میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے لیے متعارف کرایا گیا ای چالان سسٹم شہریوں کے لیے سہولت کے بجائے پریشانی کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ سسٹم کی متعدد خامیوں کے باعث شہریوں کو وہ چالان بھی بھیجے جا رہے ہیں جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں، جس سے عوام شدید ذہنی دباؤ اور مالی مسائل سے دوچار ہیں۔
شہریوں کی جانب سے شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ کسی کی چوری شدہ گاڑی کا چالان گھر پہنچ رہا ہے، تو کسی کو ایک ہی دن میں 5 سے زائد چالان موصول ہو رہے ہیں۔ کئی شہریوں نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ انہیں ایسی گاڑیوں کا ای چالان ملا جو کبھی ان کی ملکیت رہی ہی نہیں۔
تازہ ترین واقعے میں گلشن اقبال کے رہائشی فیصل ستار کو 10 ہزار روپے کا چالان موصول ہوا، جو ایک ایسی گاڑی کا تھا جو ان کے نام پر ہے ہی نہیں۔ فیصل ستار کے مطابق ان کے پاس سوزوکی کلٹس (2004 ماڈل) ہے جس کا نمبر ASF 613 ہے، جب کہ ای چالان میں درج گاڑی سوزوکی مہران (2003 ماڈل) ہے جس کا اصل نمبر ASF 813 نکلا۔
فیصل ستار کا کہنا ہے کہ:
“میری گاڑی کئی ماہ سے گھر کھڑی ہے، اس کی بیٹری تک ڈیڈ ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود مجھے 10 ہزار روپے کے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا چالان موصول کرنا سراسر ناانصافی ہے۔”
شہری کے مطابق انہوں نے گاڑی کا رجسٹریشن نمبر ایکسائز کی ویب سائٹ سے چیک کیا تو معلوم ہوا کہ مہران گاڑی کسی مس مون لائٹ انڈسٹریز کے نام رجسٹرڈ ہے۔ یعنی ای چالان جاری کرنے کے عمل کے دوران گاڑی کا نمبر غلط ریڈ ہوا اور ذمہ داری غلط شخص پر ڈال دی گئی۔
فیصل کے مطابق جب وہ شکایت لے کر ٹریفک پولیس سہولت سینٹر پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ معاملہ “کمیٹی کے فیصلے” کے بعد حل ہوگا، جس کے لیے انہیں مزید چکر لگانے ہوں گے۔
انہوں نے کہا:
“میں ایک پرائیویٹ فرم میں ملازم ہوں۔ 10 ہزار روپے کی یہ رقم میرے لیے کوئی معمولی خرچ نہیں۔ اوپر سے سرکاری دفاتر کے چکر الگ، ذہنی دباؤ الگ۔ ساری معلومات اور ثبوت ہونے کے باوجود اس مسئلے کو حل کرنا میرے لیے ایک عذاب بنتا جا رہا ہے۔”
شہریوں کا مطالبہ
عوام کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے کہ ای چالان سسٹم کو فوری طور پر اپ ڈیٹ اور درست کیا جائے، نمبر پلیٹ ریڈنگ سسٹم کو جدید کیا جائے اور شکایات کے حل کے لیے فوری ٹریکنگ اور آن لائن حل کا نظام بنایا جائے، تاکہ شہریوں کی پریشانی کم ہو اور ٹریفک قوانین کا نظام قابلِ اعتماد ہو سکے۔