(ایف آئی اے) کا دہشت گردی کی مالی معاونت، کرپٹو کرنسی سے متعلق جرائم اور منی لانڈرنگ کے خلاف جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ملک گیر کارروائی کا آغاز

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے دہشت گردی کی مالی معاونت، کرپٹو کرنسی سے متعلق جرائم اور منی لانڈرنگ کے خلاف جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ملک گیر کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے تحقیقات، انٹیلی جنس اور امیگریشن نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ادارہ ایک خصوصی ورچوئل کرنسی سیل، انٹی گریٹڈ کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیررازم (CFT) فیوژن سینٹر، مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی رسک اسسمنٹ سسٹم اور 24 گھنٹے فعال نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (NC3) قائم کر رہا ہے، جس کا مقصد دہشت گردی کی مالی معاونت، کرپٹو کرنسی کے ذریعے ہونے والے مالیاتی جرائم، منی لانڈرنگ اور انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق 38 مقدمات جبکہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے 5 مقدمات کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد جدید ٹیکنالوجی سے لیس نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ایف آئی اے کے مطابق نئی حکمت عملی میں مصنوعی ذہانت، بلاک چین فرانزک تحقیقات اور ریئل ٹائم انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو یکجا کیا جائے گا تاکہ مشکوک مالیاتی سرگرمیوں کی فوری نشاندہی اور مؤثر تحقیقات ممکن بنائی جا سکیں۔

ذرائع کے مطابق قائم کیے جانے والے ورچوئل کرنسی سیل میں کرپٹو کرنسی لین دین، بلاک چین پر مبنی مالیاتی جرائم، ڈیجیٹل اثاثوں اور کولڈ والٹس میں موجود رقوم کی تحقیقات پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ یہ سیل جدید ڈیجیٹل فرانزک ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہوگا۔

اسی طرح انٹی گریٹڈ سی ایف ٹی فیوژن سینٹر نیکٹا، نِفٹیک اور صوبائی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹس کے ڈیٹا کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا۔ اس مرکز کو بینکاری ریکارڈ، گو اے ایم ایل سسٹم اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے ڈیٹا سے بھی منسلک کیا جائے گا تاکہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے مالی روابط کا مؤثر انداز میں سراغ لگایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر مبنی رسک اسکورنگ سسٹم بھی متعارف کرا رہی ہے، جس کے ذریعے مالیاتی اداروں، ورچوئل اثاثہ جاتی خدمات فراہم کرنے والے اداروں (VASPs) اور غیر سرکاری تنظیموں کے آڈٹ کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے تقاضوں کے مطابق مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

ادارے نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے اپنے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کے 11 پولیس اسٹیشن فعال کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان میں سے 5 تھانے فعال ہو چکے ہیں جبکہ باقی 6 کو جلد فعال کر دیا جائے گا۔

امیگریشن کے شعبے میں بھی ایف آئی اے نے اپنے سرحدی انتظامی نظام کو اپ گریڈ کرتے ہوئے IBMS-II متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے IMPASS، انٹرپول، نادرا اور بیورو آف امیگریشن کے ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا تاکہ ہوائی اڈوں پر آنے اور جانے والے مسافروں کی جانچ پڑتال مزید مؤثر بنائی جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امیگریشن رجحانات اور مشکوک سفری راستوں کی نگرانی کے لیے ایک رسک اینالیسس یونٹ بھی قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی پروازوں سے قبل مسافروں کی اسکریننگ کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی e-IMMI پری ڈپارچر ڈیسک بھی قائم کیے جائیں گے۔

ایف آئی اے کا مجوزہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (NC3) ملک بھر میں انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی اور آپریشنل رابطہ کاری کا مرکزی مرکز ہوگا، جو چوبیس گھنٹے فعال رہے گا۔ اس مرکز میں 18 خصوصی آپریشنل ڈیسک قائم کیے جائیں گے، جہاں امیگریشن نگرانی، انسدادِ انسانی اسمگلنگ، رسک اینالیسس، بایومیٹرک اسکریننگ، منی لانڈرنگ تحقیقات، انٹرپول رابطہ کاری، سائبر کرائم، کرپٹو کرنسی تحقیقات، ڈارک ویب مانیٹرنگ، ٹیلی کام ڈیٹا تجزیہ، اوپن سورس انٹیلی جنس، شکایات کے ازالے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق معاملات کی نگرانی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق این سی تھری عوام کے لیے 24 گھنٹے ہیلپ لائن بھی فراہم کرے گا جبکہ ملک بھر میں جاری آپریشنز کی نگرانی، انٹیلی جنس کے تبادلے اور روزانہ اسٹریٹجک صورتحال پر مبنی رپورٹس بھی تیار کی جائیں گی تاکہ مالیاتی اور سائبر جرائم کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائیاں یقینی بنائی جا سکیں۔

Related posts

پنجاب حکومت کا اعلیٰ بیوروکریسی میں بڑا ردوبدل، متعدد ڈپٹی کمشنرز، ڈی جیز اور سیکرٹریز کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری

پنجاب میں 24 گھنٹوں کے دوران 1466 ٹریفک حادثات، 14 افراد جاں بحق، 1744 زخمی

نیب لاہور آفس میں اعلیٰ سطحی اجلاس سرکاری اراضی کی واگزاری، حکومتی ملکیت کی بحالی اور آئندہ حکمتِ عملی پر اہم فیصلے