بالی وڈ میگا اسٹار امیتابھ بچن لیجنڈری اداکار دھرمیندر کی اسپتال میں بنائی گئی ویڈیو لیک ہونے پر پھٹ پڑے۔
بھارتی میڈیا کی جانب سے دھرمیندر کی موت کی جھوٹی خبریں پھیلانے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی اسپتال کے کمرے سے بنائی گئی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہیں انتہائی نازک حالت میں اسپتال کے بستر پر دیکھا گیا۔ ویڈیو میں ان کے ساتھ ان کی پہلی اہلیہ پرکاش کور، بیٹے سنی دیول اور بوبی دیول بھی افسردہ حالت میں موجود تھے۔
خاندان کی لاعلمی میں ویڈیو بنائی گئی
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ویڈیو دھرمیندر کے اہلخانہ کی اجازت یا علم کے بغیر بنائی گئی اور تیزی سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی۔
امیتابھ بچن کا سخت ردعمل
امیتابھ بچن نے اپنے بلاگ میں اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے لکھا:
“نہ کوئی اخلاقیات باقی رہ گئی ہے، نہ ذمہ داری کا احساس۔ اتنے نازک لمحے میں ذاتی فائدے کے لیے ویڈیو بنانا ناقابلِ قبول ہے۔”
انہوں نے بارہا اس ویڈیو کو “ناقابلِ نفرت” قرار دیا اور کہا کہ انسانیت کو شرمندہ کرنے والا یہ رویہ کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
جھوٹی خبروں پر اہلخانہ کا غصہ
حال ہی میں بھارتی میڈیا کے بڑے ناموں— انڈیا ٹوڈے، اے بی پی نیوز، نیوز 18 اور ہندوستان ٹائمز— نے دھرمیندر کی موت کی خبر نشر کی تھی جسے اہلخانہ اور ترجمانوں نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
بعد ازاں سنی دیول بھی اپنی رہائش گاہ کے باہر موجود میڈیا نمائندوں پر برس پڑے اور جذباتی انداز میں کہا:
“آپ کے گھر میں والدین ہیں؟ بچے ہیں؟ اگر ہیں تو ایسی ویڈیوز کیوں بناتے ہیں؟ آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی!”