بالی وڈ کے معروف اداکار اور بھارتی فلم انڈسٹری کے مقبول اداکار سنی دیول نے کہا ہے کہ کرتارپور راہداری کے دورے کے دوران انہیں پاکستان میں بہت پیار ملا، جبکہ پاکستانی فوجیوں نے بھی ان سے محبت کا اظہار کیا۔
سنی دیول ان دنوں اپنی نئی فلم ’بٹوارہ (1947)‘ کی تشہیر میں مصروف ہیں، جو گزشتہ روز بھارت سمیت مختلف ممالک میں ریلیز ہوئی ہے۔ فلم کی کہانی تقسیمِ ہند کے پس منظر اور اس دور کے انسانی المیے کے گرد گھومتی ہے۔
فلم کی پروموشن کے سلسلے میں دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران میزبان نے سنی دیول سے سوال کیا کہ کیا وہ کبھی پاکستان گئے ہیں؟ اس پر اداکار نے بتایا کہ وہ باضابطہ طور پر پاکستان نہیں گئے، تاہم انہیں ایک مرتبہ کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر پاکستان جانے کا موقع ملا تھا۔
سنی دیول کے مطابق چونکہ کرتارپور ان کے انتخابی حلقے میں واقع تھا، اس لیے انہیں کرتارپور جانے والے وفد کا حصہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر انہیں پاکستان میں بہت محبت اور خلوص ملا۔
اداکار نے بتایا کہ دورے کے دوران پاکستانی فوجیوں نے بھی ان سے محبت کا اظہار کیا اور ان سے کہا کہ ایسی فلمیں نہ بنائیں جو پاکستان مخالف ہوں، کیونکہ پاکستانی عوام بھارتی اداکار سے بہت محبت کرتے ہیں۔
سنی دیول نے بتایا کہ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ’’میں تو صرف ایک کردار ادا کرتا ہوں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اداکار کا کام مختلف کردار ادا کرنا ہے، جبکہ فلم میں دکھائے جانے والے کردار اور حقیقی زندگی میں موجود شخصیات یا عوام کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر شخص کو اپنے ملک سے محبت ہوتی ہے، تاہم برے لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور معصوم شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
سنی دیول کی جانب سے کرتارپور راہداری کے دورے اور پاکستان میں ملنے والی محبت کا ذکر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی نئی فلم ’بٹوارہ (1947)‘ تقسیمِ ہند کے حساس موضوع پر شائقین کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
اداکار کا کہنا تھا کہ فلموں اور فن کا مقصد صرف تفریح نہیں بلکہ بعض اوقات تاریخ کے تلخ واقعات اور انسانی جذبات کو بھی اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی یا سرحدی اختلافات اپنی جگہ، لیکن عام لوگوں کے درمیان محبت اور انسانیت کی اہمیت برقرار رہنی چاہیے۔