اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت گرنے کا خطرہ

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت گرنے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو حکومت کی مذہبی اتحادی جماعت شاس نے حکومت چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے سبب نیتن یاہو کی حکومت گرنے کا خطرہ ہے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی پارلیمان میں شاس کے 11 رکن ہیں، ان کے مستعفیٰ ہونے کی صورت میں نیتن یاہو حکومت کے پاس 120 ارکان کے مقابلے 50  ارکان رہ جائیں گے اور وہ ایوان میں اکثریت کھو دیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل میں مذہبی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو فوجی خدمات سے مستثنیٰ قرار دینے کا قانون نہ بنانے پر تنازع شدت اختیار کرگیا ہے جس کی وجہ سے  شاس نے حکومت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا ۔

 شاس سے قبل الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں میں سے ایک United Torah Judaism (یو ٹی جے) نے بھی گزشتہ رات نیتن یاہو کی کابینہ اور حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ 

Related posts

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے کا مطالبہ، فرانسیسی صدر میکرون کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ

آبنائے ہرمز کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی نیٹو کو سخت وارننگ، اتحادیوں سے بحری مدد کا مطالبہ

اماراتی صدر محمد بن زاید اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں کشیدگی فوری ختم کرنے پر زور