اماراتی صدر محمد بن زاید اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں کشیدگی فوری ختم کرنے پر زور

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ فوجی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر کشیدگی کو کم کرنا ناگزیر ہے۔

گفتگو کے دوران اماراتی صدر اور سعودی ولی عہد نے ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کو عرب ممالک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ صورتحال کا حل فوجی کارروائی کے بجائے سنجیدہ مکالمے، سفارتی کوششوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے دوران امارات اور سعودی عرب کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور خطے کے امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق خلیجی قیادت کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل پر زور دینا خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

Related posts

اسرائیل کو امن معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی، بیروت میں شہری آبادی کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے: جے ڈی وینس

پاکستان کی خفیہ سفارتی حکمت عملی، اسرائیلی نگرانی کو ناکام بنا کر امریکا۔ایران معاہدے کو محفوظ بنانے میں اہم کردار

امریکا اور ایران کے درمیان “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” منظرِ عام پر، 14 نکاتی مسودے کی تفصیلات سامنے آگئیں