واشنگٹن: امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنے اہلکاروں اور انٹیلیجنس تجزیہ کاروں سے “تخلیقی اور غیر روایتی” تجاویز طلب کرلی ہیں، جسے امریکی دفاعی حلقوں میں ایک غیر معمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹکام کی انٹیلیجنس برانچ کے ایک سینیئر افسر نے بدھ کے روز فوجی تجزیہ کاروں کے ایک بڑے گروپ کو ای میل بھیجی، جس میں کہا گیا کہ ایران پر دباؤ ڈالنے اور اسے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کرنے کے لیے نئے، تخلیقی اور غیر روایتی طریقوں پر تجاویز درکار ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نوعیت کی ای میل کے ذریعے بڑے پیمانے پر آراء طلب کرنا امریکی فوج میں معمول کا طریقہ کار نہیں، اسی لیے دفاعی ماہرین اسے اس بات کی علامت قرار دے رہے ہیں کہ واشنگٹن ایران کے خلاف اپنی آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے مختلف امکانات پر غور کر رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق بعض فوجی حکام کا خیال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے پاس ایران کو اپنی شرائط پر کسی ممکنہ معاہدے پر آمادہ کرنے کے لیے دستیاب آپشنز محدود ہوتے جا رہے ہیں، جس کے باعث روایتی فوجی اور سفارتی اقدامات کے ساتھ دیگر متبادل راستوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹموتھی ہاکنز نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ میں تخلیقی انداز میں سوچنے اور نئے آپریشنل تصورات پر کام کرنے کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ ان کے مطابق مختلف سطحوں پر اہلکاروں سے تجاویز طلب کرنا ادارے کی پیشہ ورانہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور اسے غیر معمولی اقدام نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ای میل ایسے وقت میں سامنے آئی جب صدر ٹرمپ کی جانب سے بعد ازاں ایران کو نئے حملوں کی دھمکیاں بھی دی گئیں، جس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی فوج کی جانب سے مختلف حکمت عملیوں پر غور کرنا معمول کی منصوبہ بندی کا حصہ ہوتا ہے، تاہم ایران جیسے حساس معاملے پر اس نوعیت کی تجاویز طلب کیے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن سفارتی، اقتصادی، انٹیلیجنس اور عسکری سطح پر متعدد متبادل آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کی نوعیت کا انحصار دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات، ممکنہ سفارتی رابطوں اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر ہوگا۔