اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی گفتگو سمجھ سے بالاتر ہے اور صرف بیان دینے سے نئے صوبے قائم نہیں ہو سکتے، اس کے لیے آئینی، قانونی اور پارلیمانی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتے ہیں۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انہوں نے محسن نقوی کی پوری تقریر سنی، تاہم وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ ان کا اصل مؤقف کیا تھا۔ ان کے بقول ایسا محسوس ہوا کہ محسن نقوی کسی بڑے نکتے کی طرف اشارہ کرنا چاہتے تھے، مگر وہ اپنی بات واضح انداز میں بیان نہیں کر سکے، جس کے باعث ان کے مختلف جملوں میں بھی تضاد نظر آیا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب کوئی شخص اس نوعیت کی بات کرتا ہے تو وہ اس کی ذاتی رائے ہوتی ہے، اس لیے محسن نقوی کو خود وضاحت کرنا ہوگی کہ ان کے بیان سے کیا مراد تھی اور وہ کس تناظر میں یہ بات کر رہے تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام کوئی انتظامی اعلان یا سیاسی تقریر سے ممکن نہیں بلکہ اس کا مکمل طریقہ کار آئین میں موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر سب سے پہلے پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث ہونی چاہیے، جس کے بعد سیاسی جماعتیں اپنی قیادت کی مشاورت سے آئینی راستہ اختیار کریں۔
رانا ثنا اللہ نے یاد دلایا کہ مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت کے دورِ حکومت 2013 سے 2018 کے دوران جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبوں کے معاملے پر عملی پیش رفت کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں دو نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قرارداد انہوں نے خود پیش کی تھی اور اس مقصد کے لیے کمیشن کے قیام کی بھی حمایت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے ایک قومی کمیشن تشکیل دینا ہوگا، جو مالی وسائل، انتظامی ڈھانچے، سرکاری اداروں کی تقسیم، قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی سمیت تمام آئینی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے۔ ان کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ قومی معاملہ ہے جس پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔
وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ ملک میں انتظامی اصلاحات کے لیے دو راستے زیر غور آ سکتے ہیں، ایک نئے اور چھوٹے صوبوں کا قیام جبکہ دوسرا مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام کا نفاذ۔ ان کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں ماڈلز پر بیک وقت پیش رفت کی جائے، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کو ہی کرنا ہوگا۔
رانا ثنا اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حساس آئینی معاملات پر جذباتی بیانات کے بجائے وسیع قومی مشاورت، سیاسی اتفاق رائے اور آئینی تقاضوں کو مقدم رکھا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی فیصلے پر تنازع پیدا نہ ہو۔