میر رضا قتل کیس میں اہم فارنزک پیش رفت، جائے وقوعہ سے ملنے والا خول سکیورٹی گارڈ کے پستول سے میچ نہ ہوسکا

میر رضا قتل کیس میں اہم فارنزک پیش رفت، جائے وقوعہ سے ملنے والا خول سکیورٹی گارڈ کے پستول سے میچ نہ ہوسکا
کراچی: نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس میں اہم فارنزک رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والا 30 بور کا گولی کا خول سکیورٹی گارڈ کے پستول سے میچ نہیں ہوا۔
فارنزک رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والے خول کا موازنہ پستول نمبر LA-1197 سے فائر کیے گئے دو ٹیسٹ خولوں سے کیا گیا، تاہم دونوں میں مطابقت نہیں پائی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرائم سین سے ملنے والے خول اور ٹیسٹ خولوں کے اسٹرائیکر پن اور بریچ فیس کے نشانات مختلف ہیں۔ فارنزک رپورٹ تھانہ فیروزآباد میں درج مقدمہ نمبر 795/2026 سے متعلق ہے، جس میں اغوا، قتل اور شواہد مٹانے سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔
دوسری جانب میر رضا کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے فارنزک رپورٹ کو کیس میں انتہائی اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے پولیس کے تفتیشی طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
جبران ناصر کے مطابق ایک اہم حقیقت پولیس نے 10 اگست سے مبینہ طور پر چھپا رکھی تھی، جس کا مقصد خودکشی کے بیانیے کو مضبوط اور برقرار رکھنا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ میر رضا کی لاش ملنے کے 9 روز بعد جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والا گولی کا خول اس پستول سے فائر کیے گئے خالی خولوں سے مطابقت نہیں رکھتا جو پولیس ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
وکیل کے مطابق مذکورہ پستول سکیورٹی کمپنی برائٹ سکیورٹی کو جاری کیا گیا تھا اور قانون کے تحت اس وقت اس پستول سے فائر کیے گئے دو خالی خول پولیس کے پاس بطور ریکارڈ جمع کرائے گئے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس کو فارنزک رپورٹ کا علم تھا، تاہم اس پیش رفت کو سامنے نہیں لایا گیا اور سندھ ہائی کورٹ کے سامنے بھی یہ حقیقت ظاہر نہیں کی گئی۔
جبران ناصر نے جائے وقوعہ سے شواہد ملنے کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جس مقام سے میر رضا کی لاش ملی تھی، اسے اس مؤقف کے تحت جلایا گیا کہ اس عمل سے گولی کا خول تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 6 اگست کو گولی کا خول ملنے کے وقت چار مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز بھی وہاں موجود تھے، اس کے باوجود جائے وقوعہ میں مبینہ طور پر ردوبدل کیا گیا۔ وکیل نے الزام عائد کیا کہ خودکشی کے مؤقف کو آگے بڑھانے کے لیے وہاں جعلی گولی کا خول رکھا گیا۔
میر رضا کے اہل خانہ کے وکیل نے مزید کہا کہ خاندان پہلے دن سے پولیس کے طرز عمل پر سوالات اٹھا رہا ہے، جبکہ ان کے بقول سندھ حکومت بھی متعلقہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی مزاحمت کرتی رہی ہے۔
جبران ناصر کا کہنا تھا کہ حکومت نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے سے انکار کیا اور اہل خانہ کو اسی پولیس پر تفتیش کے لیے اعتماد کرنے پر مجبور کیا گیا۔
ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں پولیس کی تفتیش اپنی ساکھ کھوتی جارہی ہے اور جس انداز سے تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں، اس سے خاندان کے خدشات مزید بڑھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ فارنزک رپورٹ میں خول اور پستول کے درمیان مطابقت نہ ہونے کی بات سامنے آئی ہے، جبکہ جائے وقوعہ میں مبینہ ردوبدل اور جعلی خول رکھنے سے متعلق الزامات وکیل جبران ناصر کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات پر پولیس کا مؤقف اس بیان میں شامل نہیں۔

Related posts

محسن نقوی کے ’’عوام کی مرضی‘‘ کے بیان نے نئے صوبوں کے قیام پر آئینی سوالات اٹھا دیے

محسن نقوی کے ’’عوام کی مرضی‘‘ کے بیان نے نئے صوبوں کے قیام پر آئینی سوالات اٹھا دیے

نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام ایک قومی مسئلہ ہے،خواجہ آصف