لاہور: پنجاب پولیس میں کرپشن کے خلاف کارروائیوں میں تیزی، 10 روز میں 210 افسران و اہلکار عہدوں سے فارغ
لاہور: پنجاب پولیس میں کرپشن اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہوگیا، صرف 10 روز کے دوران صوبے بھر میں 210 افسران و اہلکاروں کو مختلف عہدوں سے ہٹا کر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق کارروائی کی زد میں آنے والے اہلکاروں میں انسپکٹر سے کانسٹیبل رینک تک کے افسران و اہلکار شامل ہیں۔ متعدد اہلکاروں کے خلاف کرپشن کے الزامات ثابت ہونے کے بعد انہیں عہدوں سے ہٹایا گیا، جبکہ سنگین نوعیت کی بدعنوانی ثابت ہونے پر بعض اہلکاروں کو ملازمت سے بھی فارغ کردیا گیا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق کرپشن کے خلاف کارروائیوں میں لاہور ضلع پہلے نمبر پر رہا، جہاں 42 پولیس اہلکاروں کے خلاف کرپشن ثابت ہونے پر کارروائی کی گئی۔ متعلقہ اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ کیس کی نوعیت کے مطابق محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔
حکام کے مطابق پنجاب پولیس کے دیگر اضلاع میں بھی کرپشن میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف افسران اور اہلکاروں کے حوالے سے خفیہ رپورٹس کی بنیاد پر تحقیقات کی جارہی ہیں، جبکہ الزامات کی تصدیق ہونے پر مزید کارروائیاں متوقع ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث اہلکاروں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔ انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ کو بھی کرپشن میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق آئی جی پنجاب نے انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ کو پولیس فورس میں احتساب کے عمل کو مؤثر بنانے اور کرپشن سے متعلق موصول ہونے والی خفیہ رپورٹس پر قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی ہدایات دے رکھی ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کا مقصد محکمہ پولیس میں احتساب کا نظام مضبوط بنانا اور کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔
اہم ہیڈ لائنز