سینیٹ قائمہ کمیٹی اجلاس میں عابد شیر علی اور ایمل ولی خان کے درمیان تلخ کلامی

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما عابد شیر علی اور عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر ایمل ولی خان کے درمیان تلخ کلامی اور نوک جھونک ہوگئی، جس کے باعث اجلاس کا ماحول کچھ دیر کے لیے کشیدہ رہا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی اجلاس کے دوران ستھرا پنجاب حکام کی جانب سے بریفنگ دی جا رہی تھی، تاہم کمیٹی ارکان اور چیئرپرسن کی جانب سے حکام سے سخت سوالات کیے گئے۔ سوال و جواب کے دوران عابد شیر علی حکام پر ہونے والی مسلسل پوچھ گچھ پر برہم دکھائی دیے۔
عابد شیر علی نے ایمل ولی خان سے کہا کہ آپ انہیں بریفنگ دینے ہی نہیں دے رہے۔ اس پر ایمل ولی خان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا، "آپ مجھے سکھائیں گے؟ آپ ہوتے کون ہیں؟”
دونوں ارکان کے درمیان بحث مزید آگے بڑھی تو عابد شیر علی نے جواب دیا، "اگر میں کچھ نہیں ہوں تو آپ کون ہیں؟” جس کے بعد اجلاس میں دونوں کے درمیان نوک جھونک اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
عابد شیر علی نے ایمل ولی خان سے کہا کہ "مجھے فرق نہیں پڑتا، میں کوئی غلط بات نہیں کر رہا، آپ طریقے سے بات کریں۔” ایمل ولی خان نے جواب دیا کہ "وہ طریقے سے بات کر رہے ہیں، آپ بھی طریقے سے بات کریں۔”
صورت حال کو مزید کشیدہ ہونے سے بچانے کے لیے کمیٹی کی چیئرپرسن قرۃ العین مری اور دیگر اراکین نے دونوں رہنماؤں کے درمیان بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی۔
کمیٹی اجلاس میں ارکان کی جانب سے ستھرا پنجاب حکام سے مختلف امور پر سوالات کیے گئے اور حکام سے وضاحتیں طلب کی گئیں۔ حکام کو بریفنگ کا موقع دینے اور سوالات کے طریقہ کار پر اختلاف کے باعث عابد شیر علی اور ایمل ولی خان کے درمیان معاملہ تلخ کلامی تک پہنچ گیا۔
ارکان کی مداخلت کے بعد صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کی گئی اور اجلاس کی کارروائی جاری رہی۔ واقعے کے باعث کمیٹی اجلاس میں سیاسی اختلافات اور ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی توجہ کا مرکز بن گیا۔

Related posts

محسن نقوی کے ’’عوام کی مرضی‘‘ کے بیان نے نئے صوبوں کے قیام پر آئینی سوالات اٹھا دیے

میر رضا قتل کیس میں اہم فارنزک پیش رفت، جائے وقوعہ سے ملنے والا خول سکیورٹی گارڈ کے پستول سے میچ نہ ہوسکا

نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام ایک قومی مسئلہ ہے،خواجہ آصف