دبئی: ایران پر امریکا کے تازہ حملوں کے بعد خطے میں فضائی سرگرمیاں ایک بار پھر متاثر ہونے لگی ہیں اور دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے آپریٹ ہونے والی یومیہ پروازوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
فلائٹ شیڈول کے مطابق ایران پر امریکی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد دبئی ایئرپورٹ کا فلائٹ آپریشن ایک مرتبہ پھر متاثر ہوا ہے۔ جنگ سے قبل دبئی ایئرپورٹ سے روزانہ اوسطاً 1250 پروازیں آپریٹ ہوتی تھیں، تاہم حالیہ صورتحال کے باعث پروازوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں ہفتے دبئی ایئرپورٹ سے یومیہ اوسط پروازوں کی تعداد تقریباً 1050 تک پہنچ گئی تھی۔ بعض دنوں میں یہ تعداد 1090 تک بھی ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ دبئی کا فضائی آپریشن بتدریج معمول کی جانب واپس آ رہا ہے۔
تاہم ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے بعد صورتحال ایک بار پھر تبدیل ہوگئی اور دبئی ایئرپورٹ کی پروازوں میں روزانہ تقریباً 100 پروازوں کی کمی سامنے آئی ہے۔
تین روز میں پروازوں کی صورتحال
فلائٹ شیڈول کے اعداد و شمار کے مطابق 31 اگست کو دبئی ایئرپورٹ کے لیے 945 پروازیں آپریٹ کی گئیں، جبکہ یکم ستمبر کو پروازوں کی تعداد 984 رہی۔
اسی طرح 2 ستمبر کو دبئی ایئرپورٹ سے 985 پروازیں آپریٹ کی گئیں۔
اس طرح حالیہ دنوں میں دبئی ایئرپورٹ کی یومیہ پروازوں کی تعداد جنگ سے قبل کی اوسط 1250 پروازوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی۔
خطے کی کشیدہ صورتحال کے فضائی سفر پر اثرات
ایران اور امریکا کے درمیان تازہ کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں فضائی سفر ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایئرلائنز کو پروازوں کے شیڈول، فضائی راستوں اور آپریشنل معاملات میں تبدیلیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔
دبئی ایئرپورٹ دنیا کے مصروف ترین فضائی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور یہاں سے بڑی تعداد میں بین الاقوامی پروازیں مختلف ممالک کے لیے روانہ ہوتی ہیں۔ خطے میں کسی بھی بڑی سکیورٹی صورتحال کا براہِ راست یا بالواسطہ اثر دبئی کے فضائی آپریشن پر بھی پڑ سکتا ہے۔
فلائٹ شیڈول سے ظاہر ہونے والے تازہ اعداد و شمار کے مطابق دبئی ایئرپورٹ پر پروازوں کی تعداد میں دوبارہ کمی آئی ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی کے عالمی فضائی سفر پر اثرات نمایاں ہوگئے ہیں۔