ایسے الزامات تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں: چین کا اطلاعاتی ناکہ بندی کے اسرائیلی الزام پر ردعمل

تل ابیب: چین نے  اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے ان الزامات کو مسترد کیا ہے جن میں انہوں نے اسرائیل کے خلاف ’اطلاعاتی ناکہ بندی‘ کا دعویٰ کیا تھا۔ 

چین کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے بیانات دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق اسرائیل میں چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نیتن یاہو کے الزامات ’بنیادی طور پر غلط اور چین۔اسرائیل تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں‘۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ چین ان الزامات پر ’گہری تشویش اور سخت مخالفت‘ کا اظہار کرتا ہے۔

یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب نیتن یاہو نے حال ہی میں بعض ممالک بشمول چین پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری اور سوشل میڈیا کے ذریعے اسرائیل پر ’اطلاعاتی ناکہ بندی‘ لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔

چینی سفارتخانے نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو چین سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ 

چینی سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا کہ عالمی برادری مسلسل غزہ میں فوری جنگ بندی، اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے، اسرائیل کو صرف فوجی کارروائیوں اور مسلسل بمباری کے بجائے سیاسی بصیرت اور تخلیقی سفارتکاری کی ضرورت ہے۔

چینی سفارتخانے نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ عالمی سطح پر ہونے والے مطالبات کا احترام کرتے ہوئے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے اور ایک جامع جنگ بندی پر متفق ہو تاکہ غزہ میں جاری بحران کو  روکا جاسکے۔

Related posts

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے کا مطالبہ، فرانسیسی صدر میکرون کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ

آبنائے ہرمز کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی نیٹو کو سخت وارننگ، اتحادیوں سے بحری مدد کا مطالبہ

اماراتی صدر محمد بن زاید اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں کشیدگی فوری ختم کرنے پر زور