تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے صدر اسحاق ہرزوگ کو باضابطہ درخواست دے کر اپنے جاری کرپشن مقدمات میں معافی کی اپیل کی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ بطور وزیر اعظم جاری فوجداری کارروائیاں ان کے کام میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور معافی اسرائیلی معاشرے کے مفاد میں ہوگی۔ ان کے وکلا نے صدر کے دفتر کو خط بھیجا ہے جس میں کہا گیا کہ نیتن یاہو کا اب بھی یقین ہے کہ قانونی کارروائی کا اختتام مکمل بریت پر ہوگا۔
نیتن یاہو نے اپنی جماعت لیکود کی جانب سے جاری کردہ مختصر ویڈیو بیان میں کہا:
“میرے وکلا نے آج صدر کو معافی کی درخواست بھیج دی ہے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ جو بھی ملک کی بہتری کا خواہش مند ہے وہ اس اقدام کی حمایت کرے گا۔”
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کو صرف اس صورت میں معافی ملنی چاہیے جب وہ اپنے جرم کا اقرار کریں، نادم ہوں اور سیاست ترک کریں۔
خیال رہے کہ رواں ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیلی صدر سے درخواست کی تھی کہ وہ نیتن یاہو کو کرپشن مقدمات میں معاف کرنے پر غور کریں۔ اسرائیلی صدر کے دفتر کے مطابق ٹرمپ نے ایک خط میں نیتن یاہو کی معافی کی سفارش کی تھی۔
نیتن یاہو اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیر اعظم ہیں اور یہ درخواست ان کے سیاسی اور قانونی مستقبل میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے.