تہران: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ دوبارہ حملے کی دھمکی کے بعد کسی بھی جارحیت کا سخت اور بھرپور جواب دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ناجائز جارحیت کی صورت میں ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ نے بھی ملک کے حقِ دفاع کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے کسی سے اجازت لینے کا محتاج نہیں اور کسی بھی مہم جوئی کے خلاف ایرانی عوام کا ردعمل غیر متوقع ہوگا۔
یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سخت موقف اختیار کیا تھا۔ امریکی صدر نے فلوریڈا میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران نے جوہری تنصیبات دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کی تو امریکہ اس پر فوری حملوں کی حمایت کرے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران دوبارہ جوہری پروگرام کی بحالی کی کوشش کر رہا ہے اور اگر ایسا ہوا تو انہیں یہ تنصیبات گرانا ہوں گی۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔