کاراکس/واشنگٹن: امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس سمیت مختلف علاقوں میں حملے کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں شہر میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ مختلف علاقوں میں جنگی طیاروں کی نچلی پروازیں بھی دیکھی گئیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا میں فوجی کارروائی کا حکم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا، جس کے بعد دارالحکومت کاراکس میں کم از کم 7 دھماکے رپورٹ ہوئے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار نے خبر ایجنسی سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ امریکا وینزویلا کے خلاف فوجی حملے کر رہا ہے۔
وینزویلا حکومت نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی حملے کاراکس، میرانڈا، آراگوا اور لاگویرا کی ریاستوں میں کیے گئے۔ وینزویلا حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ملک کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔
حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے وینزویلا حکومت نے کہا ہے کہ امریکا وینزویلا کے وسائل حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا اور وہ امریکی فوجی جارحیت کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر وینزویلا کے صدر نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
دوسری جانب روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں وینزویلا کے دفاعی ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ وینزویلا کے صدر نے صدارتی محل چھوڑ دیا ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق وینزویلا کے چند جزائر میں امریکی میرینز کے ممکنہ زمینی آپریشن سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
ادھر کولمبیا کے صدر نے کہا ہے کہ کاراکس پر میزائل داغے جا رہے ہیں اور وینزویلا پر حملوں کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جانا چاہیے۔
خطے میں کشیدگی میں شدید اضافے کے خدشات کے پیش نظر عالمی برادری کی نظریں صورتحال پر مرکوز ہیں، جبکہ آئندہ چند گھنٹوں میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے.