بیجنگ: ایران کے خلاف امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کی خبروں کے تناظر میں چین نے واضح موقف اپنایا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی بھرپور مخالفت کی جاتی ہے اور تنازعات کا حل مذاکرات، سفارتی راہ اور عالمی قوانین کے تحت تلاش کیا جانا چاہیے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی استحکام کا احترام عالمی قوانین کا بنیادی حصہ ہے اور کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ترجمان نے اظہار امید کیا کہ ایرانی حکومت اور عوام موجودہ مشکل صورتحال پر قابو پا سکتے ہیں اور ملکی استحکام کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
چینی ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تنازعے کے حوالے سے اہم بیانات جاری کیے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات کے خواہاں ہے اور ان کے درمیان ملاقات کا انتظام کیا جا رہا ہے، تاہم ساتھ ہی انہیں طاقتور آپشنز پر غور کرنا پڑ رہا ہے جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ممکن ہے مذاکرات سے پہلے ہی فوجی اقدامات کرنا پڑیں، جس کے پیشِ نظر امریکی فوج اور قومی سلامتی کے ادارے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق فیصلے میں فوج بھی شامل ہے اور امریکی حکام ایرانی اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ صورتحال کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایلون مسک سے بھی بات کریں گے تاکہ ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی میں مدد مل سکے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مظاہروں میں بعض افراد کے ہلاک ہونے کے مناظر سامنے آئے ہیں اور سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندیوں یا سروس بندش کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
چینی حکومت نے زور دیا ہے کہ عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور دیگر متعلقہ فریقین مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی احترام کی بنیاد پر حل تلاش کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
چین کے موقف کو عالمی مبصرین نے اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مداخلت کے خطرات خطے میں مزید کشیدگی، مہاجرین کے بحران اور عالمی معاشی منڈیوں میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کے حوالے سے امریکہ کے بیانات اور ممکنہ کارروائی کی خبریں عالمی خبروں کی سرِ فہرست ہیں، جس پر متعدد ممالک نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لئے سفارتی راہ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔