امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں جاری مظاہروں سے متعلق تازہ بیان اور دھمکی کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت کا سخت ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ ایرانی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایرانی عوام کا قاتل قرار دے دیا۔
علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی قیادت خطے میں عدم استحکام، تشدد اور خونریزی کی اصل ذمہ دار ہے اور ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کھلی جارحیت کے مترادف ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیان کو اشتعال انگیز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات ایرانی عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔
ایرانی اعلیٰ عہدیدار کا یہ ردعمل امریکی صدر کے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت مخالف پُرتشدد مظاہروں میں ملوث عناصر کو بغاوت پر اکساتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ریاستی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیں۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ امریکی مدد جلد مظاہرین تک پہنچنے والی ہے۔
امریکی صدر نے مظاہرین کو یہ ہدایت بھی دی تھی کہ وہ ان افراد کے نام محفوظ کریں جنہیں وہ قاتل اور ظالم قرار دے رہے ہیں، اور عندیہ دیا تھا کہ انہیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ٹرمپ کے ان بیانات کو ایران نے براہِ راست مداخلت اور بغاوت پر اکسانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کا سخت بیان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایران امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے کسی قسم کی لچک دکھانے کے موڈ میں نہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بیرونی طاقتیں ایران میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر ریاست ان سازشوں کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید خطرناک رخ دے سکتے ہیں۔
ایران میں احتجاج، امریکی بیانات اور ایرانی قیادت کے سخت ردعمل کے بعد آنے والے دنوں میں صورتحال مزید حساس ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔