ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کی نئی لہر، جامعات ایک بار پھر سرگرم

ایران میں حکومت مخالف احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جہاں مختلف جامعات کے طلبہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ خبر ایجنسیوں کے مطابق پیر کے روز کم از کم آٹھ جامعات میں طلبہ نے مسلسل دوسرے دن بھی احتجاج ریکارڈ کرایا اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔

جامعات میں مظاہرے، انقلابی پرچم نمایاں

رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے ایران کے موجودہ نظام حکومت کے خلاف شدید نعرے لگائے۔ کئی مقامات پر طلبہ انقلابِ ایران (1979) سے پہلے کے دور کا ’شیر اور سورج‘ والا ایرانی پرچم اٹھائے دکھائی دیے، جسے بعض حلقے ماضی کی سیاسی شناخت اور موجودہ نظام سے اختلاف کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کے خلاف ہے، جبکہ حکومتی حلقے ان مظاہروں کو بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دیتے رہے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز سے جھڑپیں

کچھ شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے بعض مقامات پر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم سرکاری سطح پر نقصانات یا گرفتاریوں کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

پس منظر: جنوری کے ملک گیر احتجاج

یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں بھی ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔ اس دوران مختلف شہروں میں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں متعدد افراد کے زخمی اور گرفتار ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

ایران میں گزشتہ چند برسوں کے دوران معاشی دباؤ، مہنگائی، پابندیوں اور سیاسی آزادیوں سے متعلق خدشات کے باعث وقفے وقفے سے احتجاجی تحریکیں جنم لیتی رہی ہیں۔

امریکی ردعمل

ان مظاہروں کے تناظر میں عالمی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ امریکا کے صدر Joe Biden نے ماضی میں ایرانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین پر تشدد کا سلسلہ نہ روکا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری نئی احتجاجی لہر خطے کی سیاست اور عالمی تعلقات پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران پہلے ہی بین الاقوامی دباؤ اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

مزید تفصیلات سامنے آنے پر صورتحال کی نوعیت اور شدت کے بارے میں واضح تصویر سامنے آسکے گی۔

Related posts

ڈونلڈ ٹرمپ کی وضاحت: ایران سے متعلق عسکری اختلافات کی خبریں بے بنیاد قرار

بنگلہ دیش میں نئی حکومت کے بعد فوجی قیادت میں بڑی تبدیلیاں

بھارتی فضائیہ کا تیجس بیڑا عارضی طور پر گراؤنڈ، تکنیکی جانچ شروع