مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ میزائل حملوں میں اب تک 560 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق کویت میں قائم امریکی فوجی اڈے کو “مکمل طور پر ناکارہ” بنا دیا گیا ہے، جبکہ امریکی طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
طیارہ بردار جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایرانی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی بحری بیڑے میں شامل طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو چار میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس دعوے کے ثبوت یا نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ United States Central Command (سینٹ کام) نے ایرانی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑا کسی بھی میزائل حملے کا نشانہ نہیں بنا اور ایرانی میزائل جہاز کے قریب تک نہیں پہنچ سکے۔
امریکی ہلاکتوں کی تصدیق
اگرچہ امریکا نے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی ایرانی خبر کو مسترد کیا ہے، تاہم سینٹ کام نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ حملوں میں 3 امریکی فوجی ہلاک اور 5 زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق زخمی اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں میں حملے
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے Strait of Hormuz میں امریکا اور برطانیہ کے تین تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے اور مسقط کے قریب ایک بحری جہاز پر حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
ایرانی آرمی چیف کا بیان
ایرانی آرمی چیف Amir Hatami نے اپنے بیان میں کہا کہ “ایرانیوں کو غلام بنانے کا خواب قبروں میں جائے گا، ایران کے بیٹے دفاعِ وطن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور طاقت کا جواب طاقت سے دیتے رہیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پہلے سے طے شدہ اور مشق شدہ حکمتِ عملی کے تحت کارروائیاں کر رہا ہے۔
خطے میں جنگ کا خطرہ
دفاعی ماہرین کے مطابق دونوں جانب سے متضاد دعوؤں اور تردیدوں کے باعث صورتحال انتہائی پیچیدہ ہو چکی ہے۔ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ تنازع وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی برادری کی جانب سے تحمل اور فوری جنگ بندی کی اپیلیں کی جا رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق تیزی سے بدل رہے ہیں۔