نئی دہلی: بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں بلکہ بھارت خود سفارتی تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں اے ایس دلت نے کہا کہ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے سے متعلق بیانیہ اب پرانا ہوچکا ہے اور زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک مضبوط ریاست ہے جو نہ کبھی ٹوٹے گا اور نہ ہی بکھرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور ایران و امریکا کے درمیان ثالثی جیسے معاملات میں متحرک ہے، جبکہ یہ کردار بھارت کو ادا کرنا چاہیے تھا۔
سابق بھارتی انٹیلی جنس چیف نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا سلسلہ کبھی معطل نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلسل سفارتی رابطے ضروری ہیں۔
دوسری جانب بھارت میں بھی پاکستان سے مذاکرات کے حق میں آوازیں سامنے آرہی ہیں۔ دو روز قبل آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل دتاتریہ ہوسابالے نے کہا تھا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنے چاہییں۔
اس سے قبل بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل منوج نروانے بھی دونوں ممالک کے عوام کے مسائل کو مشترک قرار دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ عوامی مشکلات کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔