ڈونلڈ ٹرمپ نامی نایاب سفید بھینسا قربانی سے بچ گیا، بنگلادیشی حکومت کی مداخلت

ڈھاکا: بنگلادیش میں سنہرے بالوں والے ایک نایاب سفید بھینسے کو، جسے لوگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مشابہت کی وجہ سے “ڈونلڈ ٹرمپ” کے نام سے پکارنے لگے تھے، حکومتی مداخلت کے بعد عیدالاضحیٰ پر قربانی سے بچا لیا گیا۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق تقریباً 700 کلوگرام وزنی اس منفرد بھینسے نے گزشتہ چند ہفتوں میں سوشل میڈیا پر غیرمعمولی شہرت حاصل کر لی تھی۔ اس کے سفید جسم اور سنہری بالوں نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، جبکہ اس کی پرسکون طبیعت اور منفرد شکل و صورت نے اسے پورے ملک میں مشہور بنا دیا۔

رپورٹس کے مطابق بھینسے کو ابتدا میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے لیے خریدا گیا تھا، تاہم جیسے ہی اس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، لوگ اسے دیکھنے کے لیے دور دراز علاقوں سے آنے لگے۔ بڑی تعداد میں شہری اس کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بنواتے رہے، جس کے باعث مقامی انتظامیہ کو سکیورٹی اور ہجوم پر قابو پانے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

بنگلادیشی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ عوامی دلچسپی میں غیرمعمولی اضافے اور ممکنہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر حکومت نے آخری وقت میں مداخلت کرتے ہوئے اس جانور کی قربانی روکنے کا فیصلہ کیا۔

وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ بھینسے کو ذبح نہ کیا جائے، اس کے خریدار کو مکمل رقم واپس کی جائے اور جانور کو محفوظ طریقے سے ڈھاکا کے قومی چڑیا گھر منتقل کر دیا جائے تاکہ عوام اسے دیکھ سکیں۔

حکام کے مطابق بھینسے کو خصوصی نگرانی میں رکھا جائے گا اور ویٹرنری ماہرین اس کی صحت کا معائنہ بھی کریں گے۔ چڑیا گھر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس منفرد جانور کی آمد کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد متوقع ہے، اس لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے حکومت کے فیصلے کو دلچسپ اور غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے اس پر مختلف تبصرے کیے ہیں۔ کئی افراد نے بھینسے کی خوبصورتی اور منفرد رنگت کو قدرت کا نادر شاہکار قرار دیا، جبکہ بعض صارفین نے مذاقاً کہا کہ “ڈونلڈ ٹرمپ” ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا، مگر اس مرتبہ سیاست نہیں بلکہ قربانی سے بچنے کی وجہ سے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلادیش میں کسی جانور کو عوامی دلچسپی اور غیرمعمولی شہرت کے باعث سرکاری سطح پر قربانی سے بچا کر چڑیا گھر منتقل کیا گیا۔

Related posts

امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی و جوہری مذاکرات معاہدے پر پیش رفت

روس کا افغانستان سے بڑھتے دہشت گرد خطرات پر انتباہ، داعش خراسان کی سرگرمیوں پر تشویش بڑھ گئی

ٹرمپ کا ایران سے متعلق بڑا بیان، پاکستان کی درخواست پر کارروائی روکنے کا دعویٰ