واشنگٹن: سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات کی، جس میں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام امریکی قیادت تک پہنچایا۔ امریکی میڈیا کے مطابق ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، ایران سے کشیدگی، عراق میں حالیہ پیش رفت اور حوثی گروپ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شہزادہ خالد بن سلمان نے اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی ملاقات کی، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب خطے میں کشیدگی میں اضافے کے بجائے تناؤ میں کمی اور استحکام کا خواہاں ہے۔
سعودی وزیرِ دفاع نے ملاقات کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات پر حملے مملکت کے لیے ایک ریڈ لائن ثابت ہوئے، جس کے بعد سعودی عرب کو دفاعی نوعیت کا جواب دینا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ عراق میں کی گئی کارروائی کا مقصد ہرگز کشیدگی کو بڑھانا نہیں تھا بلکہ یہ واضح کرنا تھا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق شہزادہ خالد بن سلمان نے نائب صدر جے ڈی وینس کو یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایران کے ساتھ مزید کشیدگی بڑھانے پر زور دے رہے ہیں، تاہم سعودی عرب کا مؤقف اس کے برعکس ہے اور مملکت سمجھتی ہے کہ سفارت کاری اور تناؤ میں کمی ہی خطے کے لیے زیادہ مفید راستہ ہے۔
ذرائع کے حوالے سے امریکی میڈیا نے مزید دعویٰ کیا کہ عراق میں سعودی کارروائی کا ایک مقصد یمن کے حوثی گروپ کو بھی واضح پیغام دینا تھا کہ مملکت اپنے مفادات اور تنصیبات کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی وزیرِ دفاع نے امریکی قیادت کو آگاہ کیا کہ حوثیوں سے نمٹنے کے لیے فی الحال امریکا کی براہِ راست مداخلت کی ضرورت نہیں، کیونکہ سعودی عرب اس چیلنج سے خود نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دوسری جانب حوثیوں کے ساتھ سفارتی رابطے اور مذاکرات کا عمل بھی جاری ہے تاکہ تنازع کے پائیدار حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔
امریکی میڈیا کے مطابق سعودی قیادت کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو محدود رکھنا، اتحادیوں کے ساتھ قریبی مشاورت جاری رکھنا اور مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنا ہے۔