دنیا میں امن و استحکام چاہیے تو اس کا آغاز ہمارے خطے سے ہونا چاہیے: ایرانی صدر

تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دنیا میں پائیدار امن اور استحکام قائم کرنا ہے تو اس کی بنیاد ہمارے خطے سے ہی پڑے گی، ایران جنگ کا خواہاں نہیں تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور قوت سے مقابلہ کیا جائے گا۔
تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امن اور استحکام صرف طاقت کے ذریعے مسلط نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے خطے کے ممالک کو باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جو قوم پوری قوت، عزم اور حوصلے کے ساتھ کھڑی ہو، اسے کوئی بھی ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ ایرانی قوم کسی دباؤ یا دھمکی کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی اور نہ ہی وہ جنگ چاہتا ہے، تاہم اگر کسی جانب سے جارحیت کی گئی تو ایران اپنی سرزمین، خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے پوری قوت کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ ان کے بقول خطے میں امن کا قیام تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور علاقائی ممالک کو مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور تعاون کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے نئے علاقائی معاہدوں کو خطے میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا ہے۔
ہفتہ وحدت کے موقع پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں باقر قالیباف نے کہا کہ حالیہ علاقائی حالات نے یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ بیرونی طاقتیں مسلم ممالک کو دیرپا اور قابلِ اعتماد سکیورٹی فراہم نہیں کرسکتیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے کی سلامتی کی بنیاد مسلم ممالک کی اپنی مرضی، باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں پر ہونی چاہیے۔ ہمسایہ مسلم ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں اور باہمی تعاون پر اعتماد کرنا ہوگا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات نے مسلم اتحاد اور باہمی تعاون کی اہمیت بھی واضح کردی ہے۔ مسلمانوں کے درمیان تعاون نے دشمن کی جانب سے شکست دینے اور خطے میں بالادستی قائم کرنے کی کوششوں کو پیچھے دھکیلنے میں مدد دی ہے۔
باقر قالیباف نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے ممالک اپنے مسائل خود حل کرسکیں اور بیرونی مداخلت کے امکانات کو کم کیا جاسکے۔
ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات میں ایک طرف جنگ سے گریز اور علاقائی امن کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف بھرپور دفاع کے عزم کو بھی دہرایا گیا ہے۔

Related posts

دنیا میں امن و استحکام چاہیے تو اس کا آغاز ہمارے خطے سے ہونا چاہیے: ایرانی صدر

نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 669 تک پہنچ گئیں، 2 ہزار سے زائد افراد لاپتا

ایران جنگ سے امریکا کمزور ہوا، پیوٹن یورپ میں کارروائیاں بڑھا سکتے ہیں: امریکی انٹیلی جنس رپورٹ