پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے مشترکہ دفاعی معاہدے کی پہلی کمیٹی کا اجلاس کل استنبول میں ہوگا

استنبول: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اعلیٰ سطحی کمیٹی کا پہلا اجلاس کل پیر کو ترکیے کے شہر استنبول میں ہوگا، جس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔
ترک وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے چیفس آف اسٹاف سمیت اعلیٰ حکام اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اجلاس میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ترک وزارتِ خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام رواں ماہ طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلی مرتبہ کمیٹی کی سطح پر ملاقات کر رہے ہیں۔ اجلاس میں موجودہ علاقائی اور عالمی سیکیورٹی صورتحال سمیت بین الاقوامی سلامتی کے امور ایجنڈے میں سرفہرست رہیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے پر بھی غور کیا جائے گا، جبکہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور مشترکہ تربیتی و عسکری تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون بڑھانے، جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے تبادلے اور دفاعی سازوسامان کی مشترکہ تیاری و پیداوار سمیت مختلف تجاویز پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اجلاس میں شرکت کے لیے استنبول پہنچ چکے ہیں۔ ان کی آمد کے بعد تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ مزید آگے بڑھنے کا امکان ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دفاعی تعاون میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان باہمی دفاعی تعاون، عسکری رابطوں اور سیکیورٹی امور میں اشتراک کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
استنبول میں ہونے والا کمیٹی کا پہلا اجلاس اسی تعاون کو عملی شکل دینے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں مستقبل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اور دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں میں ترجیحات طے کیے جانے کا امکان ہے۔
تینوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ اجلاس کے دوران علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

Related posts

دنیا میں امن و استحکام چاہیے تو اس کا آغاز ہمارے خطے سے ہونا چاہیے: ایرانی صدر

نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 669 تک پہنچ گئیں، 2 ہزار سے زائد افراد لاپتا

ایران جنگ سے امریکا کمزور ہوا، پیوٹن یورپ میں کارروائیاں بڑھا سکتے ہیں: امریکی انٹیلی جنس رپورٹ