پشاور: جنوبی وزیرستان کے کیڈٹ کالج وانا پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع اور وفاقی وزیر داخلہ کے بیان کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا اور وہ وہاں سے اپنے ہینڈلرز سے رابطے میں تھے۔
رپورٹس کے مطابق افغان خوارج نے کالج کے مرکزی گیٹ پر ایک بارودی گاڑی سے دھماکہ کیا، جس کے نتیجے میں گیٹ گر گیا اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ فورسز نے ابتدائی کارروائی میں 2 خوارجی مارے جبکہ تاحال 3 خوارجی ایک الگ عمارت میں چھپے ہوئے ہیں جن کے خلاف کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملے کے وقت کالج میں کل تقریباً 650 افراد موجود تھے جن میں 525 کیڈٹس شامل تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے اب تک 115 افراد کو محفوظ طریقے سے ریسکیو کر لیا ہے اور کالج کے اندر تقریباً 535 افراد ابھی بھی موجود ہیں جبکہ کیڈٹس کی رہائشی عمارتوں سے کافی فاصلے پر خوارجی ایک مخصوص عمارت میں محدود ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کیڈٹ کالج میں 3 شہادتیں ہوئی ہیں اور حملہ آور افراد کالج کے اندر لوگوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ شواہد موجود ہیں کہ افغانستان میں خوارج کی ٹریننگ ہو رہی ہے اور حملہ آور اپنے ہینڈلرز سے وہاں سے ہدایات لے رہے تھے۔
پاک فوج اور دیگر سکیورٹی ادارے علاقے کو گھیرے میں لے چکے ہیں اور اس وقت تک آپریشن جاری رکھنے کا عہد کیا گیا ہے جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہ کر دیا جائے۔ فوجی ذرائع نے حملے کو “بزدلانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد نوجوانوں میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔
علاقے میں ریسکیو اور طبی سہولتوں کا عمل جاری ہے، اور سکیورٹی فورسز نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ پریشان نہ ہوں کیونکہ تمام طلبہ محفوظ رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کالج سے کیڈٹس کو بتدریج نکالا جا رہا ہے اور آپریشن کے بعد متاثرین کی نگرانی اور معائنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔