اسلام آباد: ممکنہ 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ موصول ہوگیا ہے، جس میں ملک کے عدالتی اور عسکری ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ مسودے کے مطابق آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ دینے اور سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لے کر ایک نئی وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
آئینی ترامیم کی تفصیل
مسودے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 42، 59 اور آرٹیکل 63 اے کی کلاز 5 میں ترمیم کی جائے گی، جس کے تحت 63 اے کی شق میں موجود لفظ سپریم کو فیڈرل کانسٹیٹیوشنل سے تبدیل کیا جائے گا۔
27 ویں ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز ہے، جس کا بنیادی کام:
• آئین کی تشریح
• آئینی تنازعات کا فیصلہ
ہوگا۔
ترمیم کے مطابق:
• آئین کا آرٹیکل 184 (ازخود نوٹس) ختم کیا جائے گا۔
• مستقبل میں آئینی مقدمات سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
• سپریم کورٹ صرف اپیلی اور عمومی مقدمات کی عدالت رہے گی۔
وفاقی آئینی عدالت میں چاروں صوبوں کی برابر نمائندگی ہوگی، جبکہ اس کے چیف جسٹس کی مدت 3 سال مقرر کی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات محدود ہو جائیں گے۔
آئینی عدالت کے فیصلے ملک کی تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے۔
فوجی ڈھانچے میں تبدیلی کی تجویز
مسودے میں عسکری قیادت سے متعلق بھی بڑی تبدیلی شامل ہے:
• چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرنے کی تجویز
• آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا نیا عہدہ دینے کی سفارش
• فیلڈ مارشل سمیت اعلیٰ فوجی اعزازات کو تاحیات رتبہ دینے کی تجویز
ججز کی تقرری کے نظام میں بھی تبدیلی
مجوزہ ترمیم کے مطابق:
• ججز کی تقرری میں وزیر اعظم اور صدر مرکزی کردار ادا کریں گے۔
• جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دونوں شامل ہوں گے۔
• پارلیمنٹ کو وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی تعداد کے تعین کا اختیار حاصل ہوگا۔
ردِعمل اور ممکنہ بحث
قانونی ماہرین نے اس مجوزہ ترمیم کو عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات میں بڑی تبدیلی قرار دیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے بھی مسودے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں اس ترمیم سے متعلق بحث مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔