آئی ایم ایف کا پاکستان سے عدالتی کارکردگی، بیوروکریسی میں احتساب اور ریاستی اثاثوں کا ریکارڈ مرتب کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے عدالتی اور بیوروکریٹک نظام میں شفاف احتساب کو یقینی بنانے، ریاستی زمینوں اور ان کے مالک اداروں کا مرکزی ریکارڈ قائم کرنے اور ججوں کی کارکردگی کے جائزے کے لیے واضح طریقہ کار وضع کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ حکومت پاکستان، سپریم کورٹ، آڈیٹر جنرل اور نیب سمیت دیگر اداروں سے طویل مشاورت کے بعد مرتب کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ان سفارشات پر نہ صرف عملدرآمد کرنا ہوگا بلکہ انہیں عوام کے سامنے ظاہر کرنا بھی لازمی ہوگا۔

اہم مطالبات اور سفارشات
• اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تمام فیصلوں اور سرمایہ کاری معاہدوں میں مکمل شفافیت
• سرکاری زمینوں اور ان کے مالک اداروں کا مرکزی اثاثہ جات رجسٹری قائم کرنا
• ججوں کی تقرری اور کارکردگی کے جائزے کے لیے واضح اور شفاف نظام
• بیوروکریٹس کے اثاثہ جات کے گوشوارے عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ
• پبلک پروکیورمنٹ نظام میں اصلاحات اور براہ راست ٹھیکوں پر پابندی
• ایف بی آر کے اندر ٹیکس پالیسی آفس کا قیام، تاکہ پالیسی اور ٹیکس وصولی کو الگ کیا جا سکے
• اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم — سیکرٹری خزانہ کو اسٹیٹ بینک بورڈ سے ہٹانے کی تجویز

ایس آئی ایف سی کے لیے خصوصی ہدایات

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ایس آئی ایف سی:
• سرمایہ کاری معاہدوں اور دی گئی مراعات کی تفصیلات پر مشتمل سالانہ رپورٹ جاری کرے
• بورڈ آف انویسٹمنٹ ایکٹ کی وہ شقیں بھی شائع کرے جن کے تحت ریگولیٹری چھوٹیں دی جاتی ہیں

رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر

وزارت خزانہ رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر کا شکار ہے، حالانکہ قانوناً اسے یہ رپورٹ روکنے کا اختیار حاصل نہیں۔ یہ رپورٹ آئی ایم ایف کے بورڈ اجلاس سے پہلے شائع کرنا لازمی ہے جس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کا فیصلہ کیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کے ترجمان نے اس معاملے پر مؤقف دینے کا وعدہ کیا، تاہم یاد دہانی کے باوجود کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

Related posts

گل پلازہ سانحہ: انتظامیہ نے معلوم نقائص دور نہیں کیے، جوڈیشل کمیشن رپورٹ جاری

پمز آتشزدگی: تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ وزیراعظم کو پیش، 8 ذمہ داران معطل کرنے کی منظوری

پمز میں نومولود بچوں کی اموات جھلسنے سے نہیں، دھواں اور کالک سانس کے ذریعے جسم میں جانے سے ہوئیں: ایگزیکٹو ڈائریکٹر