اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کے طالبان سے دوبارہ مذاکرات کا امکان موجود ہے، کیونکہ پاکستان اپنے دوست ممالک کو انکار نہیں کرسکتا۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ترکیے کی حکومت اور عوام پاکستان کے محسن ہیں اور ترکیے کا اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے قطر اور ترکیے کی کوششوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ “اگر ہمارے دوست ممالک کو مذاکرات کا کوئی امکان نظر آتا ہے اور وہ رابطہ کر رہے ہیں تو بات ہوسکتی ہے۔ اگر کابل سے کچھ حاصل کرنے کے بعد ہمارے دوست کوئی پیشکش کر رہے ہیں تو ہم اپنے بھائیوں کو انکار نہیں کرسکتے۔”
وزیر دفاع نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی ذاتی دلچسپی قابل قدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان مذاکرات کے دوران زبانی طور پر بہت سی باتوں پر آمادہ ہوتے تھے، لیکن کسی بھی چیز کو تحریری شکل دینے کے لیے تیار نہیں تھے، جب کہ کابل کی حکومت ایک متحد اکائی کے طور پر کام نہیں کرتی۔
انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ “جب کابل میں طالبان کامیاب ہوئے تو میں نے جو بیان دیا تھا، اس پر مجھے اب پچھتاوا ہے۔”
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد 28 ویں آئینی ترمیم بھی لائی جائے گی، جس میں وہ نکات شامل ہوں گے جو پہلی ترمیم میں شامل نہیں ہو سکے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کے متعدد دور پہلے قطر اور بعد میں ترکیے میں ہوئے، تاہم افغان طالبان کی جانب سے کسی تحریری ضمانت کی پیشکش نہ کیے جانے کے باعث یہ مذاکرات بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہو گئے تھے۔