وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد کی جی-11 کچہری کے قریب ہونے والے حملے کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ اس دہشتگردانہ واردات میں شہید ہونے والوں کے درجات بلندی پر ہوں، ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا ہو۔ وزیرِ اعظم نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وزیرِ اعظم نے واضح کہا کہ کچہری کے قریب معصوم شہریوں، وکلا اور دیگر افراد کے خلاف یہ بزدلانہ حملہ بھارتی پشت پناہی میں سرگرم فتنہ الخوارج اور فتنہِ الہندوستان جیسی پراکسی تنظیموں کی جانب سے کرائے گئے دہشتگردانہ عمل کی واضح مثال ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہتے پاکستانیوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
وزیرِ اعظم نے واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر اس واقعے کے پس پردہ عناصر اور سہولت کاروں کا تعین کریں گے اور جو بھی ملوث ہوگا اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دہشتگردی کے خاتمے تک فتنہ الہندوستان و فتنہ الخوارج کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔
شہباز شریف نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ بھارت کی جانب سے پراکسی تنظیموں کے ذریعے خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی مزموم کارروائیوں کی مذمت کرے اور ایسے عناصر کی مالی، عسکری اور سیاسی پشت پناہی کو بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو بھارت کی اس قسم کی سرگرمیوں کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ یہ خطے کے امن کو تباہ کر رہی ہیں۔
وزیرِ اعظم نے اس واقعے کو دو روز قبل وانا میں بچوں پر ہونے والی حملے سے منسلک قرار دیا اور کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے کاروائی کرتے ہوئے بھارتی ایما پر سرگرم عناصر نے متعدد جگہوں پر حملے کیے ہیں جن کا مقصد پاکستان میں خوف و نفرت پھیلانا ہے۔ حکومت اس پوری صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور قومی سلامتی کے مفاد میں ضروری اقدامات بروقت کیے جائیں گے۔