اسلام آباد: وزارت داخلہ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 23 نومبر کے ضمنی انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پاکستان آرمی، سول آرمڈ فورسز اور مقامی پولیس کی تعیناتی کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جبکہ نامزد عسکری و سویل افسران کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں۔
فوج اور رینجرز کی تین سطحی سکیورٹی پوزیشننگ
نوٹیفکیشن کے مطابق:
• عام فورسز دوسری دفاعی پرت پر بطور کوئیک ری ایکشن فورس تعینات ہوں گی۔
• انتخابی دن پاکستان آرمی تیسری دفاعی پرت میں بطور کوئیک ری ایکشن فورس موجود ہوگی۔
• 22 سے 24 نومبر تک پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز اسٹینڈ بائی/ریسپانس موڈ میں رہیں گی۔
• رینجرز کو تیسری دفاعی لائن میں فوری ردعمل یونٹ کے طور پر خدمات فراہم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
افسران کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کے نامزد افسران کو:
• ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کا اختیار ہوگا
• انتخابی ڈیوٹی کے دنوں میں کسی بھی بے ضابطگی، جرم، ہنگامہ آرائی یا قانون شکنی پر خلاصہ کارروائی کرسکیں گے
• تعینات فورسز کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مکمل اختیارات بھی حاصل ہوں گے
امن و امان کے لیے سخت اقدامات
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ فورسز کو یہ اختیارات اس لیے تفویض کیے گئے ہیں تاکہ ضمنی انتخابات کے دوران:
• کسی بھی قانون شکن سرگرمی
• رکاوٹ یا ہنگامہ آرائی
• یا دہشت گردی کے خطرے
کو بروقت اور مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔
ان حلقوں میں فورسز تعینات ہوں گی
سکیورٹی فورسز کی تعیناتی درج ذیل حلقوں میں کی جائے گی:
• PP-115 فیصل آباد
• PP-116 فیصل آباد
• PP-269 مظفرگڑھ
• NA-185 ڈیرہ غازی خان
• NA-18 ہری پور
• PP-73 سرگودھا
• NA-96 فیصل آباد
• NA-104 فیصل آباد
• NA-143 ساہیوال
• PP-98 فیصل آباد
• PP-203 ساہیوال
• NA-129 لاہور
• PP-87 میانوالی
ضمنی انتخابات 23 نومبر کو ہوں گے، جن کے لیے ملک بھر میں سکیورٹی سخت کرنے کے اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔