اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ہری پور کے ضمنی انتخاب میں ہونے والی مبینہ طور پر ’’مینجڈ‘‘ مگر غیر متوقع شکست کے بعد شدید مایوسی اور گہری تشویش کا شکار ہے۔ یہ حلقہ خیبر پختونخوا کا اہم سیاسی میدان سمجھا جاتا ہے جہاں اس وقت پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بھی قائم ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اس شکست نے اعلیٰ قیادت کو سوچ کے ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے اور یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا محاذ آرائی کی طویل پالیسی پی ٹی آئی کے لیے سیاسی میدان وسیع کرنے کا ذریعہ بنی یا اس نے پارٹی کو اپنے ہی مضبوط گڑھ خیبر پختونخوا میں بھی محدود کر کے رکھ دیا ہے۔
مذاکرات کی سیاست کی طرف جھکاؤ؟
اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہری پور کی شکست کے بعد پارٹی میں پہلی بار سنجیدگی سے یہ امکان زیر غور ہے کہ مستقبل کی سیاست مذاکرات اور سیاسی مفاہمت پر مبنی ہو۔ کئی رہنماؤں کا خیال ہے کہ جس سیاسی خلا کو بھرنے کے لیے پی ٹی آئی گزشتہ کئی ماہ سے کوشش کر رہی تھی وہ اب ’’صوبے میں بھی سمٹتا دکھائی دے رہا ہے‘‘۔
یہ نشست سابق قائد حزبِ اختلاف عمر ایوب خان کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی، جہاں شکست کو پارٹی کے لیے ایک ’’ریڈ سگنل‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اہم ملاقات: بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب کی مشاورت
ضمنی انتخاب کے نتائج کے فوراً بعد پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، عمر ایوب کی رہائشگاہ گئے جہاں دونوں رہنماؤں نے تفصیلی مشاورت کی۔ بیرسٹر گوہر نے ’’گزشتہ تین برسوں میں پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کے فوائد اور نقصانات‘‘ کا جائزہ لینے کی بات کی۔
بیرسٹر گوہر کی جانب سے اس ملاقات کی تصدیق بھی کی گئی ہے، جنہوں نے بتایا کہ مستقبل کے لائحہ عمل پر کھل کر بات چیت ہوئی۔
عمر ایوب کی اہلیہ اس نشست پر پی ٹی آئی امیدوار تھیں، اور شکست کے بعد پارٹی کے اندرونی حلقے بیرسٹر گوہر کے بیانات کو قیادت کی نئی سوچ کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
’مقتدر حلقے پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو قبول نہیں کر رہے‘ — اندرونی دعویٰ
ایک سینئر ذریعے نے دعویٰ کیا کہ مقتدر حلقوں کی جانب سے پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو مکمل طور پر قبول نہ کیے جانے کا احساس پارٹی کو محاذ آرائی کی حکمتِ عملی پر ازسرنو غور کی طرف لے جا رہا ہے۔
بیرسٹر گوہر طویل عرصے سے پی ٹی آئی کے اندر ایک ’’معتدل آواز‘‘ سمجھے جاتے ہیں اور وہ تصادم کے بجائے مذاکرات کے حامی رہے ہیں۔
معتدل آوازیں مضبوط — مگر حتمی فیصلہ عمران خان کا
شاہ محمود قریشی اور چند زیر حراست رہنماؤں نے بھی ماضی میں مذاکرات کی تجویز دی، مگر پارٹی کے اندر موجود سخت گیر گروپ نے اس سمت پیش رفت روک دی۔
ذرائع کے مطابق ہری پور کی شکست نے پارٹی کے اندر معتدل حلقے کو مزید طاقت بخشی ہے، اور اب زیادہ رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ سیاسی بقا کا راستہ مذاکرات سے ہو کر گزرتا ہے۔
تاہم فیصلہ کن بات یہ ہے کہ حتمی فیصلہ پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان ہی کریں گے — اور اب تک وہ زیادہ تر محاذ آرائی کے حامیوں کے مؤقف کو ترجیح دیتے آئے ہیں