اسلام آباد: باخبر سرکاری ذرائع نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی تبدیلی اور کسی مبینہ ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نہ تو وزیرِاعظم کو ہٹانے سے متعلق کوئی منصوبہ زیرِ غور ہے اور نہ ہی کسی غیر معمولی شخصیت کو سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ، باہمی اعتماد اور احترام میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم اور عسکری قیادت کے درمیان تعلقات اسی طرح مضبوط اور شاندار ہیں جیسے ماضی میں رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطح پر تعینات ذریعے سے جب براہِ راست سوال کیا گیا تو انہوں نے بغیر کسی ابہام کے کہا،
’’تعلقات نہ صرف برقرار ہیں بلکہ پہلے کی طرح بہترین ہیں۔‘‘
ذرائع نے ان قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کیا جن میں یہ کہا جا رہا ہے کہ کسی بڑے یا خفیہ منصوبے کے تحت حکومت کو چلانے کے لیے کسی ’’ونڈر بوائے‘‘ کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسی تمام باتیں محض مفروضوں اور میڈیا میں پیدا کی گئی بحث کا نتیجہ ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب سینئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ نے اپنے ایک کالم میں ’’ونڈر بوائے‘‘ کے تصور کا ذکر کیا۔ کالم میں کہا گیا تھا کہ موجودہ حالات میں برسوں کی بدانتظامی کو ختم کرنے کے لیے کسی غیر معمولی صلاحیت کے حامل فرد کی ضرورت محسوس کی جا سکتی ہے۔
کالم میں یہ رائے بھی دی گئی تھی کہ مثالی طور پر وفاقی کابینہ ایسے ماہرین پر مشتمل ہو جو اپنے شعبوں میں مکمل اتھارٹی رکھتے ہوں اور عالمی معیار کی جامعات سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں۔ اس تحریر کے بعد مرکزی میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف تجزیے اور قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔
تاہم، حکومتی اور باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کالم کو بنیاد بنا کر وزیرِاعظم کے مستقبل یا سول ملٹری تعلقات پر سوال اٹھانا غیر ضروری اور گمراہ کن ہے۔ ذرائع کے مطابق نہ تو وزیرِاعظم کے عہدے کو کمزور کرنے کی کوئی کوشش ہو رہی ہے اور نہ ہی عسکری قیادت کے ساتھ ان کے تعلقات میں کوئی دراڑ موجود ہے۔
باخبر ذرائع نے زور دیا کہ موجودہ سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ اپنی جگہ قائم ہے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت اور ریاستی ادارے ایک ہی صفحے پر ہیں۔