پشاور: پاکستان تحریک انصاف میں اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کے معاملے پر اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پارٹی کے مرکزی انفارمیشن ونگ کے درمیان پالیسی اور بیانیے پر واضح اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی نئی تشکیل دی گئی سیاسی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا میں مبینہ ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرنے پر زور دیا۔ وزیراعلیٰ کا مؤقف تھا کہ صوبے میں ہونے والی کارروائیوں پر پارٹی کو واضح اور جارحانہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
انفارمیشن ونگ کی مزاحمت
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں مرکزی انفارمیشن ونگ کے ارکان، جن میں شیخ وقاص اکرم بھی شامل تھے، نے وزیراعلیٰ کے مؤقف کی مزاحمت کی۔ انفارمیشن ونگ کے ارکان نے موقف اختیار کیا کہ اگر وزیراعلیٰ واقعی اس بیانیے پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ خود یا صوبائی حکومت کے پلیٹ فارم سے واضح بیان جاری کریں، بجائے اس کے کہ پارٹی کے دیگر رہنما یہ مؤقف اپنائیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انفارمیشن ونگ نے اس مؤقف کو سیاسی طور پر حساس اور پارٹی کے لیے ممکنہ نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ ایسے معاملات میں ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔
بند کمروں اور عوامی مؤقف میں فرق
پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حالیہ دنوں میں عوامی سطح پر اپنا لہجہ نسبتاً نرم کر لیا ہے، تاہم بند کمروں میں وہ اب بھی چاہتے ہیں کہ پارٹی قیادت اور دیگر رہنما وہ بات کریں جو وہ خود کھل کر کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہی دوہرا پن پارٹی کے اندر ابہام اور بے چینی کا باعث بن رہا ہے اور قیادت کے درمیان اعتماد کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔
پی ٹی آئی میں بیانیے کی جنگ
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اختلاف محض ڈرون حملوں کے مؤقف تک محدود نہیں بلکہ یہ پی ٹی آئی کے اندر اسٹیبلشمنٹ سے متعلق مستقبل کے بیانیے پر جاری کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک گروپ جارحانہ بیانیہ چاہتا ہے جبکہ دوسرا محتاط اور متوازن حکمت عملی کا حامی ہے۔
ممکنہ سیاسی اثرات
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی قیادت نے بیانیے پر واضح اور متحدہ مؤقف اختیار نہ کیا تو اس کے اثرات نہ صرف خیبر پختونخوا کی سیاست بلکہ پارٹی کی مجموعی حکمت عملی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
پارٹی قیادت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم اندرونی اختلافات نے پی ٹی آئی کے نظم و ضبط اور فیصلہ سازی کے عمل پر سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں۔