اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان یا ان کی بہنوں سے ملاقات کے معاملے پر کسی قسم کی گفتگو نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات مکمل طور پر انتظامی اور ترقیاتی امور تک محدود رہی۔
وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کے لیے مختص فنڈز طویل عرصے سے رکے ہوئے تھے، جن کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے فوری طور پر قبائلی اضلاع کے لیے رکے ہوئے 26 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے، جو علاقے کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وادی تیراہ، کرم اور باجوڑ کے عوام نے امن و امان کی صورتحال میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ان علاقوں کے لیے چار ارب روپے کی رقم ان قربانیوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مالی امداد کو عوام کی قربانیوں کے ساتھ تولا جائے تو یہ ان قربانیوں سے انحراف کے مترادف ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر اس تاثر کی تردید کی کہ ملاقات میں کسی سیاسی موضوع پر بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں نہ تو بانی پی ٹی آئی کا ذکر آیا اور نہ ہی کسی سیاسی نوعیت کے معاملے پر گفتگو کی گئی۔
دہشتگردی سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ دہشتگردی کا نہ کوئی صوبہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص ملک۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی ایک قومی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔ سہیل آفریدی نے بتایا کہ عید کے بعد وزیراعظم سے دوبارہ ملاقات ہوگی، جس میں دہشتگردی کے مسئلے پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے حوالے سے پہلے بھی کھل کر اپنا مؤقف پیش کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا مؤقف واضح انداز میں سامنے رکھے گی۔