لاہور — پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ سے متعلق خبروں پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیدیوں کو بنیادی حقوق ملنا جیل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے جیلوں میں زیر حراست سیاسی رہنماؤں کے علاج معالجے میں تاخیر پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر غیر رسمی گفتگو
لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان کی آنکھ سے متعلق خبر سن کر انہیں شدید افسوس ہوا۔ ان کے بقول وہ اس صورتحال میں دعا کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان کے آنسو دیکھ کر بھی انہیں دلی دکھ ہوا۔
قیدیوں کے حقوق کی فراہمی پر زور
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہر قیدی کے بنیادی حقوق ہوتے ہیں اور انہیں قانون کے مطابق علاج معالجے کی سہولت ملنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قیدی کی بینائی متاثر ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری جیل انتظامیہ اور حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
دیگر رہنماؤں کے علاج میں تاخیر کے الزامات
شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ میاں محمود الرشید کو چیک اپ کے لیے اسپتال جانا تھا لیکن جیل انتظامیہ نے سکیورٹی نہ ہونے کا جواز پیش کیا۔ اسی طرح یاسمین راشد کے علاج میں بھی مبینہ طور پر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تاخیر ہوئی۔
پنجاب حکومت کو ذمہ دار قرار
انہوں نے کہا کہ جیلوں میں زیر حراست سیاسی رہنماؤں کے طبی مسائل اور علاج میں رکاوٹوں کی بنیادی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
سیاسی ردعمل کا امکان
سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے صحت اور قیدیوں کے حقوق کا معاملہ اٹھانے سے صوبائی اور قومی سیاست میں نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔ حکومتی مؤقف اور اپوزیشن کے الزامات کے باعث آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید بیانات سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔