سینیٹ میں عمران خان کی صحت پر بحث، رانا ثنا اللہ نے غفلت کے الزامات مسترد کر دیے

اسلام آباد — سینیٹ اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق معاملات پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے صحت کے معاملے پر چار ماہ کی مبینہ غفلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

رانا ثنا اللہ: غفلت کا تاثر غلط، ریکارڈ موجود ہے
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق چار ماہ تک غفلت برتنے کی بات درست نہیں۔ ان کے مطابق اگر حقائق اس کے برعکس ہوں تو محض سیاسی فائدے کے لیے ایسے الزامات لگانا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے اپنی طبی شکایت جنوری کے پہلے ہفتے میں کی، جس کے بعد 16 جنوری کو طبی معائنہ ہوا جبکہ 19 جنوری کو طبی ٹیم نے دوبارہ معائنہ اور مختلف ٹیسٹ کیے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جیل کے ڈاکٹر نے انہیں مخصوص ڈراپس دیے جن کا تین سے چار دن تک استعمال کیا گیا، جبکہ 24 جنوری کو ایک انجیکشن بھی لگایا گیا۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق یہ تمام ریکارڈ دستاویزی شکل میں موجود ہے اور اپوزیشن چاہے تو انہیں فراہم کیا جا سکتا ہے۔

طبی معائنوں کی تفصیل، 25 مرتبہ ڈاکٹرز کا چیک اپ
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ عمران خان کا مجموعی طور پر 25 مرتبہ بیرونی ڈاکٹرز نے معائنہ کیا۔ ان کے بقول 9 دسمبر کو ہونے والے چیک اپ اور میڈیکل بورڈ کے اجلاس میں بھی عمران خان نے آنکھ کے مسئلے کا ذکر نہیں کیا تھا، اس لیے چار ماہ کی مسلسل شکایت کا دعویٰ حقائق کے منافی ہے۔

اپوزیشن کا مؤقف: لاپرواہی واضح ہے
دوسری جانب سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے حکومتی مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ آنکھوں کے مسائل میں فوری تشخیص نہ ہو تو مستقل نقصان ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اپنی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہو چکی ہے اور اسی مثال کی بنیاد پر وہ سمجھتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے کیس میں بھی لاپرواہی برتی گئی۔

سیاسی درجہ حرارت برقرار
سینیٹ میں ہونے والی بحث نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنی اپنی پوزیشن پر قائم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معاملہ آئندہ دنوں میں بھی پارلیمانی اور سیاسی مباحث کا اہم موضوع بنا رہے گا۔

Related posts

سینیٹ قائمہ کمیٹی اجلاس میں عابد شیر علی اور ایمل ولی خان کے درمیان تلخ کلامی

محسن نقوی کے ’’عوام کی مرضی‘‘ کے بیان نے نئے صوبوں کے قیام پر آئینی سوالات اٹھا دیے

میر رضا قتل کیس میں اہم فارنزک پیش رفت، جائے وقوعہ سے ملنے والا خول سکیورٹی گارڈ کے پستول سے میچ نہ ہوسکا