لاہور — مسلم لیگ ن کے سابق رہنما اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما زعیم قادری وفات پا گئے۔ ان کی وفات کی خبر سے سیاسی حلقوں اور عوام میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
نماز جنازہ اور تدفین کے انتظامات
خاندانی ذرائع کے مطابق زعیم قادری کی نماز جنازہ نماز مغرب کے بعد 26 لارنس روڈ، لاہور پر ادا کی جائے گی۔ تدفین کے وقت متعلقہ خاندان اور سیاسی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔
سیاسی سفر اور خدمات
زعیم قادری 25 دسمبر 1964 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 2008 سے 2018 تک رکن پنجاب اسمبلی کے طور پر عوام کی خدمت کی۔ بطور رکن اسمبلی، وہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے مشیر بھی رہے اور پنجاب حکومت کے ترجمان کے طور پر اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔
پارٹی اختلافات اور علیحدگی
2018 میں پارٹی میں اختلافات کے باعث زعیم قادری مسلم لیگ ن سے علیحدہ ہو گئے اور بعد میں عوام پاکستان پارٹی کے رکن بن گئے، جہاں انہوں نے اپنی سیاسی خدمات جاری رکھیں۔ ان کی وفات سے صوبائی سیاست میں ایک تجربہ کار رہنما کا خلا پیدا ہوا ہے۔
سیاسی اور عوامی ردعمل
سابق رکن اسمبلی کی وفات پر سیاسی رہنماؤں، ساتھیوں اور عوام نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ کئی سیاسی حلقوں نے زعیم قادری کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ان کے خاندان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔
یادگار خدمات
زعیم قادری کی سیاسی زندگی میں عوامی فلاح و بہبود، سیاسی استحکام اور قانون سازی کے معاملات میں نمایاں کردار رہا۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے جانے سے پنجاب کی سیاسی فضا متاثر ہوئی ہے۔