ایران اور امریکا کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کا اگلا دور 11 جولائی سے شروع ہونے کا امکان

ایران اور امریکا کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کا اگلا دور 11 جولائی سے شروع ہونے کا امکان ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اہم تنازعات پر پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔

سعودی میڈیا العریبیہ کی رپورٹ کے مطابق آئندہ مذاکرات میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں، ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایرانی جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ بالواسطہ مذاکرات بدھ کے روز قطر کے دارالحکومت Doha میں ہوئے، جنہیں امریکی صدر Donald Trump نے تعمیری قرار دیا۔

العریبیہ کے مطابق دوحہ مذاکرات کے بعد ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں میں سے چند ارب ڈالر بحال کرنے پر اتفاقِ رائے ہوا ہے، تاہم امریکی حکام نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق آئندہ مذاکرات میں دونوں فریق اعتماد سازی کے اقدامات، پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کم کرنے پر بھی غور کریں گے، تاہم کسی بھی ممکنہ پیش رفت کا انحصار مذاکرات کے نتائج پر ہوگا۔

Related posts

دو خواتین کے مبینہ اغوا اور تاوان کیس پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز میں تفصیلی پریس کانفرنس

مطالبات نہ مانے گئے تو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ جائیں گے، فاروق ستار کی وفاق کو آخری وارننگ

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے قومی ٹیسٹ ٹیم کا اعلان