اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کا معرکۂ حق اور افواجِ پاکستان سے متعلق دیا گیا متنازع بیان سامنے آنے کے بعد سیاسی اور دفاعی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
نورین نیازی نے ایک انٹرویو میں معرکۂ حق کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ یہ “افواجِ پاکستان اور بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کا گٹھ جوڑ” تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی چاہتا تو “دو منٹ میں انہیں ختم کر سکتا تھا”، تاہم ان کے بقول ایسا اس لیے نہیں ہوا کیونکہ “اسرائیل ان کے پیچھے تھا۔”
نورین نیازی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان سے اسرائیل کو تسلیم کرانے اور ابراہم معاہدوں کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ ان کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت کی تعریف بھی اسی تناظر میں تھی۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اسرائیل سے رابطے موجود تھے اور معرکۂ حق کا مقصد پاک فوج کو عزت دلانا تھا۔
دوسری جانب دفاعی اور سیاسی امور پر نظر رکھنے والے متعدد تجزیہ کاروں نے نورین نیازی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے دعوے بغیر شواہد کے کیے گئے ہیں اور ان سے قومی بیانیے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نورین نیازی کے الفاظ اور لب و لہجہ پی ٹی آئی کے بعض حلقوں میں موجود اس بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے بیانات نہ صرف اندرونی سیاسی کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ پاکستان مخالف بیانیے کو بھی تقویت دے سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ ایسے متنازع بیانات کو بھارتی میڈیا اور پاکستان مخالف عناصر اپنے مؤقف کے حق میں استعمال کر سکتے ہیں، جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔