مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) پر انتخابی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کو باقاعدہ تحریری شکایات ارسال کر دی ہیں اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے انچارج الیکشن سیل سردار عبدالشکور کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو بھیجے گئے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بعض حلقوں میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، جن سے انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
شکایت کے مطابق حلقہ ایل اے 32 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 24 پر مسلم لیگ (ن) کے کارکن مبینہ طور پر بیلٹ پیپرز پر مہریں لگا رہے ہیں، جو انتخابی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پیپلز پارٹی نے الزام لگایا کہ اس عمل سے نہ صرف ووٹنگ کا شفاف نظام متاثر ہو رہا ہے بلکہ سرکاری ملازمین کے قواعد و ضوابط کی بھی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ پولنگ اسٹیشن پر جاری مبینہ غیر قانونی سرگرمی کو فوری طور پر روکا جائے، متعلقہ بیلٹ پیپرز کو تحویل میں لیا جائے، پولنگ عملے میں شامل متعلقہ سرکاری ملازم کو فوری طور پر پولنگ ایجنٹ کی ذمہ داری سے ہٹایا جائے اور مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ایک اور شکایت میں پیپلز پارٹی نے حلقہ ایل اے 34 کے مختلف پولنگ اسٹیشنز پر اپنے پولنگ ایجنٹس کو بیٹھنے کی اجازت نہ دینے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ شکایت کے مطابق امیدوار کرنل (ر) قدیر کے مقرر کردہ پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنز میں داخل ہونے اور اپنے فرائض انجام دینے سے روکا جا رہا ہے، جس سے انتخابی نگرانی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
پیپلز پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے متعلقہ ریٹرننگ اور پریزائیڈنگ افسران کو ہدایات جاری کریں تاکہ تمام پولنگ ایجنٹس کو قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دینے کی اجازت دی جائے اور انتخابی عمل کو شفاف، آزاد اور غیر جانبدار بنایا جا سکے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی شکایات پر فوری کارروائی یا مؤقف جاری نہیں کیا گیا۔