اسلام آباد: اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت، طبی معائنے اور جیل میں ملاقاتوں سے متعلق دو صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا سرکاری میڈیکل افسران کے ساتھ ساتھ مختلف طبی ماہرین بھی باقاعدگی سے معائنہ کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جیل کے میڈیکل افسران بانی پی ٹی آئی کے کھانے پینے کی دن میں تین مرتبہ جانچ کرتے ہیں اور ان کا باقاعدگی سے طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد سرکاری معالجین کی جانب سے عمران خان کا طبی معائنہ کیا گیا، جس کا مکمل ریکارڈ جیل انتظامیہ کے پاس موجود ہے۔
اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 4 نومبر 2023 سے 10 اگست 2026 تک مختلف طبی ماہرین نے عمران خان کے 39 چیک اپ کیے۔ رپورٹ میں ان طبی معائنوں کی سمری بھی شامل کی گئی ہے۔
آنکھوں کا بھی علاج جاری رہا
رپورٹ میں عمران خان کی آنکھوں کے علاج سے متعلق بھی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ جیل انتظامیہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا ماہر امراض چشم سے معائنہ اور علاج کرایا جاتا رہا ہے اور ان کی ایک آنکھ اب تقریباً نارمل ہوچکی ہے۔
رپورٹ میں اس مؤقف کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ عمران خان کو جیل میں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی صحت کی نگرانی باقاعدگی سے کی جاتی ہے۔
عمران خان اور اہلیہ کی ملاقاتوں کا ریکارڈ
اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے رپورٹ میں عمران خان کی اہلیہ سے ملاقاتوں کا ریکارڈ بھی پیش کیا۔ رپورٹ کے مطابق جیل رولز کے تحت عمران خان اور ان کی اہلیہ کی ہر منگل کو باقاعدگی سے ملاقات کرائی جاتی ہے۔
جیل انتظامیہ کے مطابق اب تک عمران خان اور ان کی اہلیہ کی 84 ملاقاتیں کرائی جاچکی ہیں، جبکہ وکیل سلمان صفدر بھی 10 فروری اور 4 اپریل 2026 کو عمران خان سے ملاقات کرچکے ہیں۔
ملاقاتوں کے بعد میڈیا گفتگو کا معاملہ
رپورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے اور وکیل سلمان اکرم راجہ کی جانب سے عدالت میں دی گئی یقین دہانی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں یقین دہانی کرائی تھی کہ ملاقات کے بعد جیل احاطے میں میڈیا سے گفتگو نہیں کی جائے گی، تاہم رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود میڈیا ٹاک کی گئی، جو حکم کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔
رپورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کی جانب سے شیرافضل کیس میں جیل رولز کے رول 265 سے متعلق فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
جیل انتظامیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ جیل میں ملاقاتوں کے ذریعے عدلیہ، فارن پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف عوامی جذبات کو ابھارا گیا۔
سپریم کورٹ میں کل سماعت
عمران خان کی صحت، علاج اور ملاقاتوں سے متعلق معاملہ اب سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ 18 اگست کو کیس کی سماعت کرے گا۔
عدالت میں جمع کرائی گئی اڈیالہ جیل کی رپورٹ میں عمران خان کے طبی معائنے، آنکھوں کے علاج، روزمرہ طبی نگرانی، ملاقاتوں اور ملاقاتوں کے بعد میڈیا گفتگو سے متعلق جیل انتظامیہ کا مؤقف تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔
اب سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران جیل انتظامیہ کی رپورٹ، عمران خان کی صحت سے متعلق دعووں اور ملاقاتوں کے طریقہ کار سے متعلق مختلف نکات کا جائزہ لیا جائے گا۔