اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ پمز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 14 نومولود بچوں کی موت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان معصوم بچوں کے والدین نے اپنے بچوں کے حوالے سے جو امیدیں وابستہ کی تھیں، وہ امیدوں کے چراغ روشن ہوتے ہی بجھا دیے گئے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بے بس باپ انصاف مانگ رہے ہیں، جبکہ مائیں اپنے بچوں کو 9 ماہ کوکھ میں کسی غفلت کا شکار ہونے کے لیے نہیں رکھتیں۔ انہوں نے واقعے کے ذمہ داران کے تعین اور جواب دہی کی ضرورت پر زور دیا۔
پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے پمز اسپتال کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو میں واقعے سے متعلق انتظامات پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فائر ٹینکس میں پانی موجود نہیں تھا، ڈاکٹرز موجود نہیں تھے اور اسپتال کے گیٹ بھی بند تھے۔
شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی یہاں سیاست کرنے نہیں آئی، تاہم پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ اس افسوسناک واقعے کے بارے میں سوالات اٹھائے جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذمہ دار وزیر کو خود استعفیٰ دینا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر بخاری نے بھی وفاقی وزارت صحت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صرف ایک سیکریٹری کو عہدے سے ہٹانا کافی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزارت صحت دو اسپتال نہیں سنبھال سکی تو پورے ملک کے اسپتال کیسے سنبھالے گی؟
نیئر بخاری نے مطالبہ کیا کہ وزارت صحت کو اس واقعے پر جواب دہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کی ذمہ داری تھی کہ پمز اسپتال کی انتظامیہ کے اقدامات اور انتظامات کا جائزہ لیا جاتا اور یہ یقینی بنایا جاتا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری سہولیات موجود ہوں۔
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے بھی پمز سانحے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پمز اسپتال میں 14 معصوم بچوں کی اموات محض ایک حادثہ نہیں بلکہ وفاقی نظام صحت کی سنگین ناکامی اور انتظامی غفلت کا معاملہ ہے۔
سعدیہ جاوید نے کہا کہ وفاقی وزیر صحت کو اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پیپلز پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پمز جیسے بڑے سرکاری اسپتال میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مؤثر انتظامات اور حفاظتی نظام کا موجود ہونا ضروری ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ سانحے کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ وزارت صحت اور اسپتال انتظامیہ کی ذمہ داری بھی واضح کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔