اسلام آباد: پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کی شفاف اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے خصوصی پارلیمانی کمیٹیاں تشکیل دینے کی تحاریک منظور کرلیں۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن ارکان نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ سانحے میں ملوث کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ افسران کو لائن حاضر کیا جائے گا، کسی رکن قومی اسمبلی یا سینیٹر کی جانب سے کسی افسر کو بچانے کے لیے فون نہیں آنا چاہیے۔ وزیر صحت نے اپوزیشن سے بھی کہا کہ وہ صرف کمیٹیوں یا تحقیقات کی تاریخوں تک معاملے کو محدود نہ رکھیں بلکہ حکومت کو رہنمائی اور واضح روڈ میپ دیں۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اصل مقصد صرف ذمہ داروں کا تعین یا انہیں سزا دینا نہیں بلکہ ایسا مؤثر حل تلاش کرنا ہے جس کے ذریعے مستقبل میں اس نوعیت کے کسی اور سانحے کو روکا جا سکے۔
تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کا اعلان
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ سانحہ پمز سے متعلق قائم تحقیقاتی کمیٹی اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد تفصیلی رپورٹ بھی تیار کی جائے گی اور سات روز میں جامع رپورٹ مرتب کر کے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر قانون نے کہا کہ سانحے جیسے حساس معاملے پر سیاست کے بجائے ٹھوس اور قابلِ عمل تجاویز سامنے آنی چاہئیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔
پرویز رشید کی سرکاری اسپتالوں سے علاج کی تجویز
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے مختلف تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سرکاری حکام کو سرکاری اسپتالوں سے علاج کروانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صرف انکوائری کمیٹیاں بنانے اور ذمہ داروں کو سزائیں دینے سے نظام درست نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ حکومت سے تنخواہ لیتے ہیں، خواہ وہ صدر ہوں، وزیراعظم ہوں، بیوروکریسی سے تعلق رکھتے ہوں یا عدلیہ سے، انہیں اپنا علاج سرکاری اسپتالوں میں کروانا چاہیے۔
پرویز رشید کے مطابق اگر حکمران اور اعلیٰ سرکاری افسران خود سرکاری اسپتالوں سے علاج کروائیں گے تو انہیں ان اسپتالوں کی حقیقی صورتحال کا براہ راست اندازہ ہوگا اور وہ انہیں بہتر بنانے پر مجبور ہوں گے۔
راجہ پرویز اشرف کا حقائق سامنے لانے کا مطالبہ
سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے سانحہ پمز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچے مبینہ نااہلی کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کے تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور ذمہ داری کا تعین شفاف طریقے سے کیا جائے۔
اپوزیشن کا حکومتی تحقیقاتی کمیٹی پر عدم اعتماد
دوسری جانب اپوزیشن نے سانحہ پمز کے لیے حکومت کی جانب سے قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کے لیے ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جس کی سربراہی اپوزیشن کے پاس ہو تاکہ تحقیقات کو غیرجانبدار اور شفاف بنایا جا سکے۔
علی ظفر نے کہا کہ اسپتالوں کا نظام حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں، پمز جیسے بڑے سرکاری اسپتال میں پیش آنے والے واقعے میں جس کی بھی غلطی یا غفلت ثابت ہو، اسے قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔
سانحہ غفلت نہیں، قتل ہے: راجہ ناصر عباس
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس نے سانحہ پمز پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور واقعے کو محض غفلت قرار دینے کے بجائے اسے قتل قرار دیا۔
ایوان میں خطاب کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ واقعہ صرف غفلت نہیں بلکہ قتل ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سانحے کے بعد متاثرہ بچوں کے والدین پر دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل اور غیرجانبدار تحقیقات کرائی جائیں، حقائق چھپانے کے بجائے عوام کے سامنے لائے جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں خصوصی کمیٹیوں کے قیام کی تحاریک کی منظوری کے بعد سانحہ پمز کی تحقیقات اب پارلیمانی سطح پر بھی زیرِ بحث رہیں گی، جبکہ حکومت کی جانب سے تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔