اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے نظام کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اسلام آباد میں بلدیاتی نظام کی تشکیل کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے قیام سے متعلق بل کل قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی سے منظوری حاصل ہونے کے بعد بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی، میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ مقامی حکومتوں کا نظام 3 حلقوں پر مشتمل ہوگا، جس کے تحت اسلام آباد کے شہری علاقوں میں مقامی سطح پر نمائندگی کا نظام قائم کیا جائے گا۔ اس نظام کا مقصد مقامی مسائل کے حل، شہری سہولیات کی فراہمی اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا بتایا گیا ہے۔
مجوزہ بل کے تحت مقامی حکومتوں میں مختلف طبقات کی نمائندگی یقینی بنانے کی تجویز شامل ہے۔ کونسل کے ارکان میں جنرل کونسلرز، خواتین اور اقلیتوں کو نمائندگی دی جائے گی تاکہ مقامی حکومتوں کے فیصلہ سازی کے عمل میں مختلف طبقوں کی شمولیت ممکن ہوسکے۔
ذرائع کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے داخلہ بل کا جائزہ لے گی اور منظوری کے بعد اسے پارلیمانی کارروائی کے اگلے مرحلے میں منتقل کیا جائے گا۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے نئے نظام کے نفاذ کی راہ ہموار ہوگی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں مؤثر بلدیاتی نظام کے قیام سے شہریوں کو مقامی سطح پر درپیش مسائل کے حل کے لیے نمائندہ فورم میسر آئے گا جبکہ ترقیاتی اور شہری معاملات میں مقامی سطح پر فیصلہ سازی کو بھی تقویت ملے گی۔
یوں وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اسلام آباد میں بلدیاتی نظام کے قیام کا معاملہ اب پارلیمانی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، جہاں قائمہ کمیٹی کے بعد بل کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کی منظوری درکار ہوگی۔
اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے نظام کی منظوری، بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری
3