زمین سے بجلی پیدا کرنے والی نئی ٹیکنالوجی متعارف، برطانوی سائنسدانوں کا انقلابی دعویٰ

لندن: دنیا بھر میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران، بجلی کی بلند قیمتوں اور ماحول دوست متبادل ذرائع کی تلاش کے درمیان برطانوی سائنسدانوں نے ایک ایسی نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جو مستقبل میں بجلی پیدا کرنے کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

برطانیہ کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی “بیکٹری” (Bactery) نے ایک ایسا جدید آلہ تیار کیا ہے جو زمین میں موجود قدرتی بیکٹیریا کی سرگرمیوں سے بجلی پیدا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مٹی میں پائے جانے والے خردبینی جانداروں سے حاصل ہونے والی توانائی کو استعمال میں لا کر مسلسل بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر جیکب کا کہنا ہے کہ اس منفرد نظام کی آزمائش اس وقت شہر باتھ کے نواحی علاقے میں واقع ایک باغ میں کی جا رہی ہے، جہاں ماہرین مختلف موسمی اور زمینی حالات میں اس کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ڈیوائس بنیادی طور پر ایک قدرتی بیٹری کی طرح کام کرتی ہے۔ زمین میں موجود بیکٹیریا جب نامیاتی مادوں کو توڑتے ہیں تو اس عمل کے دوران الیکٹران خارج ہوتے ہیں، جنہیں مخصوص ٹیکنالوجی کے ذریعے جمع کر کے برقی توانائی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن رات، یعنی 24 گھنٹے مسلسل بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ شمسی توانائی جیسے ذرائع سورج کی روشنی پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس ٹیکنالوجی کو مستقبل میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر جیکب کا کہنا ہے کہ کمپنی کا اگلا ہدف اس نظام کو اس قابل بنانا ہے کہ یہ دنیا بھر میں پائی جانے والی مختلف اقسام کی مٹی میں مؤثر انداز میں کام کر سکے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو دیہی علاقوں، زرعی زمینوں اور دور دراز مقامات پر بجلی کی فراہمی کے لیے یہ ایک سستا اور ماحول دوست حل ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مٹی سے توانائی حاصل کرنے کا تصور نیا نہیں، تاہم اسے تجارتی سطح پر قابلِ استعمال بنانا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ بیکٹری کی جانب سے تیار کردہ نیا نظام اس سمت میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی روایتی بیٹریوں کے مقابلے میں زیادہ طویل مدت تک کام کر سکتی ہے اور اس میں بار بار بیٹری تبدیل کرنے یا چارجنگ کی ضرورت بھی کم ہوگی۔ اسی لیے مستقبل میں اسے مختلف سینسرز، اسمارٹ ڈیوائسز اور کم توانائی استعمال کرنے والے برقی آلات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ نہ صرف بجلی کے متبادل ذرائع میں اضافہ کرے گی بلکہ کاربن اخراج میں کمی اور ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

Related posts

دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ WhatsApp اپنے صارفین کے لیے ایک نیا اور انتہائی مفید فیچر متعارف

ٹک ٹاک اور یوٹیوب بچوں کے لیے اب بھی غیر محفوظ، برطانوی ریگولیٹر کی سخت تنقید

معروف ٹیکنالوجی کمپنی Google کی جانب سے نئے صارفین کے لیے مفت کلاؤڈ اسٹوریج میں بڑی تبدیلی کیے جانے کا امکان سامنے آگیا