چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا بڑا انکشاف

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں ٹیلی کام کمپنیوں کی تقریباً 9 ہزار سائٹس پر چوری کی وارداتیں ہو چکی ہیں، جس کے باعث کئی علاقوں میں موبائل سروسز اور نیٹ ورک کے معیار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے نے متعلقہ اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شہری نے موبائل پیکج خریدا ہو لیکن سروسز بند ہونے یا نیٹ ورک کی خرابی کے باعث وہ اسے استعمال نہ کر سکے تو متعلقہ کمپنی کو صارف کی رقم واپس کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو چوری اور توڑ پھوڑ جیسے واقعات کا سامنا ہے، جس سے نیٹ ورک کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں اب تک 9 ہزار سائٹس پر چوری کی وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، جو ٹیلی کام سیکٹر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے نے مزید بتایا کہ ناقص سروس اور کمزور نیٹ ورک کے معیار پر اتھارٹی نے مختلف ٹیلی کام کمپنیوں پر مجموعی طور پر 4 ارب روپے کے جرمانے بھی عائد کیے ہیں تاکہ صارفین کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے موبائل فون سروسز پر عائد ٹیکس کے حوالے سے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ موبائل سروسز پر ٹیکس عائد کرنے میں پی ٹی اے کا کوئی کردار نہیں۔ ان کے مطابق یہ اختیار فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے پاس ہے اور ٹیکس سے متعلق تمام فیصلے ایف بی آر کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اتھارٹی ٹیلی کام سروسز کے معیار کو بہتر بنانے، صارفین کے حقوق کے تحفظ اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں اور کمپنیوں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گی۔

Related posts

چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا بڑا انکشاف

چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا بڑا انکشاف

ٹیلی کام بل سے کسی کی ذاتی زمین یا جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں ہوگا، شزا فاطمہ خواجہ