واٹس ایپ نے صارفین کو آن لائن فراڈ اور اسکیمز سے محفوظ رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نئے فیچر کی تیاری شروع کردی ہے، جو مشتبہ چیٹس کے انداز اور گفتگو کے پیٹرن کا تجزیہ کرکے ممکنہ فراڈ کی نشاندہی کرنے میں مدد دے گا۔
رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ کا نیا اے آئی اسکام ڈیٹیکشن فیچر خاص طور پر ان گفتگوؤں میں صارفین کو خبردار کرے گا جن میں دھوکا دہی یا فراڈ کے امکانات موجود ہوں۔ اس فیچر کی خاص بات یہ ہے کہ فراڈ کی شناخت کے لیے اے آئی ماڈل براہ راست صارف کے موبائل فون پر کام کرے گا۔
آن ڈیوائس اے آئی کیسے کام کرے گی؟
نئے نظام میں مشین لرننگ ماڈل صارف کے اسمارٹ فون پر ڈاؤن لوڈ کیا جائے گا اور وہیں موجود رہ کر مشتبہ گفتگو کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔
یہ نظام بالخصوص ایسے نمبروں سے آنے والی چیٹس پر توجہ دے گا جو صارف کے فون میں بطور کانٹیکٹ محفوظ نہیں ہوں گے۔ اے آئی گفتگو کے انداز، زبان اور دیگر ممکنہ فراڈ پیٹرنز کا جائزہ لے کر اندازہ لگائے گا کہ آیا چیٹ کسی اسکیم یا دھوکا دہی کا حصہ ہوسکتی ہے۔
اگر سسٹم کو کسی گفتگو میں فراڈ کے امکانات محسوس ہوئے تو صارف کو ایک وارننگ دکھائی جائے گی۔ اس وارننگ کا مقصد صارف کو محتاط کرنا ہوگا تاکہ وہ کسی مشتبہ شخص کو ذاتی معلومات، مالی تفصیلات یا رقم فراہم کرنے سے پہلے معاملے کی جانچ کرسکے۔
صارف کے پاس کیا آپشنز ہوں گے؟
مشتبہ چیٹ کے بارے میں وارننگ ملنے کے بعد صارف کے پاس متعدد اختیارات ہوں گے۔ وہ مشتبہ اکاؤنٹ کو بلاک یا رپورٹ کرسکتا ہے، گفتگو جاری رکھ سکتا ہے یا اسے قابل اعتماد چیٹ قرار دے سکتا ہے۔
اگر صارف کسی چیٹ کو ٹرسٹڈ قرار دے دیتا ہے تو واٹس ایپ اس گفتگو کے لیے اسکام الرٹس دکھانا بند کردے گا۔
اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن برقرار رہے گی
نئے فیچر کے حوالے سے سب سے اہم سوال صارفین کی پرائیویسی کا ہے۔ کمپنی کے مطابق اے آئی ماڈل کو صارف کے فون پر ہی چلانے کا مقصد یہی ہے کہ فراڈ کی شناخت کے باوجود ذاتی گفتگو کی پرائیویسی برقرار رہے۔
میٹا کے مطابق اس عمل سے واٹس ایپ کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن متاثر نہیں ہوگی اور کمپنی کو صارفین کے نجی پیغامات تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔
یعنی فراڈ کی نشاندہی کے لیے درکار تجزیہ ڈیوائس پر ہی کیا جائے گا، جبکہ پیغامات کا مواد کمپنی کے سرورز پر بھیج کر اس کا تجزیہ کرنے کے بجائے آن ڈیوائس اے آئی سے کام لیا جائے گا۔
فراڈ کے خلاف اے آئی کا استعمال کیوں اہم ہے؟
واٹس ایپ دنیا بھر میں رابطوں کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے اور اسی وجہ سے جعل ساز بھی مختلف طریقوں سے صارفین کو نشانہ بناتے ہیں۔ جعلی ملازمتوں کی پیشکش، سرمایہ کاری کے جھوٹے مواقع، مالی امداد کے نام پر دھوکا دہی، جعلی انعامات اور اکاؤنٹ سے متعلق جعلی پیغامات سمیت مختلف اقسام کے اسکامز عام ہیں۔
ایسے میں نیا فیچر صارف کو فراڈ کا شکار ہونے سے پہلے خبردار کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم وارننگ کے باوجود حتمی فیصلہ صارف ہی کرے گا کہ وہ چیٹ کو بلاک، رپورٹ یا جاری رکھنا چاہتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اے آئی ماڈل کو فراڈ کی شناخت کے لیے تربیت دی گئی ہے، جس سے مستقبل میں مشتبہ گفتگو کی بروقت نشاندہی اور صارفین کو ممکنہ مالی یا ذاتی نقصان سے بچانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
یوں واٹس ایپ کا نیا فیچر اے آئی کی مدد سے فراڈ کی شناخت اور پرائیویسی کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش ہے، جہاں مشتبہ چیٹ کی نشاندہی موبائل ڈیوائس پر ہی کرنے پر زور دیا گیا ہے۔