ڈھاکا: بنگلادیش اور بھارت کے درمیان کرکٹ اور سکیورٹی معاملات پر کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں بنگلادیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کے اعلان کے فوراً بعد انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی اپنے ملک میں ٹیلی کاسٹ پر پابندی عائد کر دی ہے۔
بنگلادیشی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آئی پی ایل کی نشریات پر یہ پابندی غیرمعینہ مدت کے لیے لگائی گئی ہے، جبکہ اس فیصلے کی وجہ کھلاڑیوں کی سکیورٹی سے متعلق سنگین خدشات کو قرار دیا گیا ہے۔
تنازع کی ابتدا: بنگلادیشی فاسٹ بولر کو دھمکیاں
اس معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستقیض الرحمان کو مبینہ طور پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے سکیورٹی دھمکیاں موصول ہوئیں، جس کے بعد آئی پی ایل فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے آر) نے انہیں ٹیم سے ریلیز کر دیا۔
اس واقعے نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ میں شدید تشویش پیدا کی، جس کے بعد بورڈ نے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔
حکومت کو ٹیم نہ بھیجنے کی سفارش
ہنگامی اجلاس کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے حکومت کو سفارش کی کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے ٹیم کو بھارت نہ بھیجا جائے۔ بورڈ کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں کھلاڑیوں کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
باضابطہ حکومتی اعلان
بنگلادیش کے مشیر برائے کھیل نے گزشتہ روز سرکاری طور پر اعلان کیا کہ کھلاڑیوں کی سکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی بنیاد پر بنگلادیشی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کے لیے بھارت نہیں جائے گی۔
آئی سی سی سے میچز منتقل کرنے کی درخواست
بعد ازاں بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو باضابطہ درخواست بھیج دی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بنگلادیش کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
آئی پی ایل پر پابندی: سخت ردعمل
تازہ ترین پیش رفت میں بنگلادیشی حکومت نے بھارتی کرکٹ لیگ آئی پی ایل کی اپنے ملک میں ٹیلی کاسٹ پر پابندی عائد کر کے سخت ردعمل دیا ہے۔ حکومتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر بھارتی لیگ کی نشریات بنگلادیش میں غیرمعینہ مدت تک معطل رہیں گی۔
کرکٹ سفارت کاری پر سوالات
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ محض کھیل تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات خطے میں کرکٹ سفارت کاری، براڈکاسٹنگ معاہدوں اور آئی سی سی کے شیڈول پر بھی پڑ سکتے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں بھارت اور بنگلادیش کے کرکٹ تعلقات مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔